مہنگی بجلی، گیس بندش نے صنعتی پیداوار کو خطرے میں ڈال دیا، عبدالرحمان فُدا
- وزیراعظم کے پیداواری لاگت کم کرنے، برآمدات بڑھانے کے وژن کو نقصان پہنچ رہا ہے، صدر سائٹ ایسوسی ایشن
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالرحمان فُدا نے بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے اور صنعتی شعبے کے لیے گیس کی دو روزہ بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے اس بندش کی وجہ قطر سے آر ایل این جی کارگو نہ ملنے کو قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیپرا گزشتہ سال دو مرتبہ بجلی کے نرخ بڑھا چکا ہے۔جولائی تا ستمبر 2025 کے لیے 33 پیسے فی یونٹ اور اکتوبر تا دسمبر 2025 کے لیے 35 پیسے فی یونٹ اور اب نیپرا نے جنوری 2026 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت مزید 1.6274 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعے تقسیم کار کمپنیوں بشمول کے الیکٹرک کو 14 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
صنعتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافے سے کے الیکٹرک کے صارفین پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا، پیداواری لاگت بڑھے گی اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی نیت تو یہ ہے کہ صنعتوں کو مسابقتی نرخوں پر توانائی فراہم کی جائے مگر عملی طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جس سے حکومتی وژن کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے جنوری کے آخر میں اعلان کردہ 4.4 روپے فی یونٹ کمی کے اثرات کو ختم کررہاہے جو پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے کی گئی تھی۔
مزید برآں قطر سے آر ایل این جی کارگو نہ ملنے اور مقامی گیس فیلڈز سے گیس کے کم حصول نے سوئی سدرن کے نیٹ ورک میں سپلائی کی کمی پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث صنعتوں کو گیس کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہ صورتحال مقامی گیس فیلڈز سے آف ٹیک پر پابندیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تاکہ پہلے سے طے شدہ آر ایل این جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا سکے۔صنعتی نمائندوں نے ایس ایس جی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی گیس فیلڈز سے فوری طور پر آف ٹیک دوبارہ شروع کرے تاکہ صنعتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
عبدالرحمان فُدا نے خبردار کیا کہ پاکستان کی توانائی کے شعبے میں عدم تحفظ جو اندرونی و بیرونی دونوں عوامل کا نتیجہ ہے، پہلے سے دباؤ کا شکار صنعتی شعبے پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس مسئلے کو حل کیا جائے کیونکہ جاری تعطل سے صنعتی پیداوار مزید کم ہو سکتی ہے جو میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔