پاکستان

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر اپیل کا اختیار نہیں، وفاقی آئینی عدالت

  • یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سیدہ نسرین زہرہ کی نظرثانی کی درخواست پر سنایا
شائع March 5, 2026 اپ ڈیٹ March 5, 2026 10:39am

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 175E (3) اسے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر کوئی نگرانی، نظرثانی یا اپیل کا اختیار نہیں دیتا ہے جن کا فیصلہ اپیل پر کیا گیا ہے اور نظرثانی پر برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سیدہ نسرین زہرہ کی نظرثانی کی درخواست پر سنایا، جو آرٹیکل 188 کے تحت سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ درخواست سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار (سول-II) کے 8 نومبر 2023 کے حکم کے خلاف تھی۔

سپریم کورٹ رجسٹرار کے دفتر نے اس درخواست کی قبولیت پر اعتراض کیا تھا، جبکہ تین رکنی بینچ نے نسرین زہرہ کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے اپنے سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ آئینی ڈھانچہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف مزید اپیل کی اجازت نہیں دیتا۔

آئینی عدالت نے حوالہ دیا کہ آرٹیکل 184 (3) نہ تو اپیلیٹ اور نہ ہی نظرثانی کی شق ہے اور یہ پہلے سے عدالتی عمل سے طے شدہ معاملات کو دوبارہ اٹھانے کا ذریعہ نہیں۔ بلکہ یہ آئینی طریقہ کار بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی صورت میں فوری جائزہ لینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

عدالت نے آرٹیکل 188 کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا جائزہ اسی کے تحت ممکن ہے، جو محدود درستگی کی صلاحت فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اگر کسی نے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواست کو بنیاد بنا کر دوبارہ تنازع کھولنے کی کوشش کی، تو یہ آئینی اصول اور فیصلوں کی حتمیت کو نقصان پہنچائے گا۔

عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ معاملہ زمین کی خرید و فروخت سے متعلق نجی تنازع ہے، عوامی بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق نہیں، اور اس طرح کے اقدامات آئین کی روح کے خلاف ہیں۔ عدالت نے نسرین زہرہ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں مسلسل قانونی چارہ جوئی کی اجازت نہیں دی گئی اور عدالتی نظم کے لیے فیصلوں کی حتمیت ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026