مشرقِ وسطیٰ جنگ کے باعث سپلائی متاثر، پاکستان نے بعض صنعتی صارفین کو گیس فراہمی محدود کر دی، رپورٹ
- 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تنازع نے عالمی توانائی تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کر دی ہے
بلومبرگ نے بدھ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی گیس تقسیم کار کمپنی بعض صنعتی صارفین کو گیس کی فراہمی کم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قطر سے توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار رکھنے والی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی توانائی تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی جبکہ قطر کی بڑی توانائی تنصیبات، بشمول راس لفان ایل این جی پلانٹ، بھی بند ہو گئی ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے خطے میں قائم اڈوں پر جوابی کارروائیاں شروع کیں، اور یوں آبنائے ہرمز میں آمدورفت شدید متاثر ہو گئی۔
آبنائے عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ نہایت اہم تجارتی راستہ، جو شمال میں خلیج عمان کو جنوب میں بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے، اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 21 میل (33 کلومیٹر) چوڑا ہے، جبکہ شپنگ لین دونوں سمتوں میں صرف 2 میل (3 کلومیٹر) چوڑی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چار سال قبل توانائی کے بحران کے دوران پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ملک توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزانہ کئی گھنٹے جاری رہنے والے بلیک آؤٹس برداشت نہیں کر سکا۔
موجودہ بحران مختصر مدت میں پاکستان کے لیے ایک غیر متوقع دباؤ پیدا کر رہا ہے، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ملک قطر کے مہنگے خریداری معاہدوں سے بچ سکتا ہے۔ سمیع اللہ طارق، کویت انویسٹمنٹ کے ریسرچ سربراہ، کے مطابق، درآمدی کوئلے جیسے سستے متبادل کی طرف منتقل ہونا ”بھیس میں ایک نعمت ہو سکتا ہے“۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے صارفین کو بدھ کی آدھی رات سے اطلاع دی کہ کھاد پلانٹس کو دوبارہ گیسیفائیڈ ایل این جی فراہم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ پاکستان سٹیٹ آئل کی سپلائی خلیج فارس میں تصادم کے صرف پانچ دن بعد متاثر ہوئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ”اس سے پتہ چلتا ہے کہ طویل رکاوٹیں یقیناً تکلیف دہ اور مہنگی ثابت ہوں گی۔“
رائسٹڈ انرجی کے تجزیہ کار مسانوری اوڈاکا کے مطابق اگر ایل این جی کی پانچ یا اس سے زیادہ ترسیل متاثر ہو جائے تو صورت حال ”سنگین“ ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ قیمتیں پاکستان کے لیے برداشت سے باہر ہیں اور ایل این جی کے متبادل محدود ہیں۔
مارچ میں پاکستان کو دو ایل این جی کارگو موصول ہوئے، جو ملکی پیداوار اور کوئلے کی درآمد سے خلا پُر کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن اپریل اور مئی میں آئی سی آئی سی کے تجزیہ کار ایوان ٹین کے مطابق، تقریباً نصف سے دو یا تین کھیپ تک شارٹ فال متوقع ہے۔
بدھ کے روز وزارتِ پیٹرولیم نے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی سپلائی بحیرہ احمر کی بندرگاہ یانبو کے ذریعے جاری رکھے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر توانائی کی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے گزرتی ہیں اور حکومت سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے ہے۔