دنیا

اسرائیل کی جانب سے سرحدوں کی بندش، غزہ میں ایندھن کی قلت

غزہ میں محدود ایندھن تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور خوراک کی بنیادی اشیا کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب ہیں، حکام
شائع March 3, 2026 اپ ڈیٹ March 3, 2026 09:07am

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ غزہ میں محدود ایندھن تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور خوراک کی بنیادی اشیا کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری لڑائی کے بہانے جنگ سے تباہ شدہ علاقے میں ایندھن اور اشیاء کی آمد روک دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ کی تمام سرحدی گذرگاہیں بند کر دیں، اس سے پہلے امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملے کیے گئے۔ اسرائیلی حکام نے پیر کی رات کہا کہ وہ منگل کو کیرم شالوم گذرگاہ کو جزوی طور پر کھولیں گے تاکہ انسانی امداد غزہ میں پہنچائی جا سکے، لیکن امداد کی مقدار نہیں بتائی گئی۔

غزہ مکمل طور پر ایندھن کے لیے اسرائیل اور مصر سے ٹرکوں پر منحصر ہے، اور تازہ رسد کی کمی اسپتالوں کی سرگرمیوں اور پانی و صفائی کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مقامی امدادی کارکنوں کے مطابق موجودہ ایندھن کے ذخائر صرف چند دن چل سکتے ہیں جبکہ سبزی، آٹا اور دیگر ضروری اشیاء بھی جلد ختم ہو سکتی ہیں اگر گذرگاہیں بند رہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منصوبہ جات کی ڈائریکٹر کارونا ہیرمن نے کہا کہ ممکنہ طور پر ایندھن کے چند دن ہی باقی ہیں۔ فلسطینی امدادی کارکن امجد الشوا نے اندازہ لگایا کہ ایندھن تین یا چار دن کے لیے کافی ہو سکتا ہے، لیکن گذرگاہیں بند رہنے کی صورت میں ضروری خوراک کے ذخائر بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد غزہ میں خوراک کی رسد کافی ہے، لیکن ممکنہ ایندھن کی کمی پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ مقامی باشندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امدادی رسد میں خلل رہا تو دوبارہ قحط کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔