پاکستان، افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ
- پاکستان کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے ہیں، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے حالیہ فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق کے تحت کیے گئے حملوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان بہت اچھا کررہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے افغان طالبان کے خلاف پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی نے ان سے (اس معاملے میں) مداخلت کی درخواست کی ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں، میں مداخلت تو کرتا لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستان کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے ہیں، وہ بہت ہی زیادہ اچھے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ [ان کے پاس] وہاں ایک بہترین وزیر اعظم، ایک بہترین جنرل اور ایک بہترین لیڈر ہے، یہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کا میں دل سے بہت احترام کرتا ہوں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اور میرا خیال ہے کہ اسلام آباد، کابل کے ساتھ اچھا کررہا ہے۔
قبل ازیں وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا تھا کہ افغاننستا کی جانب سے بلااشتعال سرحد پار حملوں کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن غضبُ للحق کے دوران 297 افغان طالبان ہلاک جبکہ 450 سے زائد زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے مزید آپریشنل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 89 افغان چیک پوسٹس تباہ کی گئیں، 18 چوکیوں کا کنٹرول حاصل کیا گیا جب کہ 135 ٹینکس اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ کردی گئیں۔
ایک علیحدہ بیان میں امریکہ نے جمعہ کو پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا، جب پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان پر بمباری کی اور جھڑپوں کے بعد طالبان حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔
پاکستانی ہم منصب سے بات چیت کے بعد انڈر سکریٹری آف اسٹیٹ فار پولیٹیکل افیئرز، ایلیسن ہکر نے ایکس پر لکھا کہ ہم صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔