پاکستان

غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام: اٹلی، اسپین اور یونان نے پاکستان کی تجویز کی حمایت کردی

  • چاروں ممالک کا غیر قانونی امیگریشن ، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے خلاف ایک مربوط حکمت عملی اور مشترکہ پالیسی فریم ورک اپنانے پر اتفاق
شائع February 26, 2026 اپ ڈیٹ February 26, 2026 05:40pm

ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر اٹلی، اسپین اور یونان نے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے قانونی راستے قائم کرنے کی پاکستان کی تجویز کی باضابطہ حمایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے روم میں اٹلی اور اسپین کے وزرائے داخلہ اور یونان کے وزیر مائیگریشن کے ساتھ ایک اہم 4 ملکی کانفرنس میں شرکت کی، جس میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کے لیے دور رس فیصلے کیے گئے۔

اٹلی، اسپین اور یونان نے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی لانے پر پاکستان کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز پر تینوں یورپی ممالک نے اتفاق کیا کہ غیر قانونی راستوں کے بجائے قانونی طریقہ کار کو فروغ دے کر انسانی اسمگلنگ کا سدباب کیا جائے گا۔

چاروں ممالک نے غیر قانونی امیگریشن ، انسانی سمگلنگ اور منشیات کے خلاف ایک مربوط حکمت عملی اور مشترکہ پالیسی فریم ورک اپنانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا جہاں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔

اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی اور اسپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈے مارلاسکانے محسن نقوی کی قیادت میں پاکستانی اداروں کے مثالی ایکشنز کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھرپور معاونت کا بھی یقین دلایا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یورپ غیر قانونی امیگریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس چیلنج کا خاتمہ صرف ایک مشترکہ اور موثر میکنزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہم نے مافیا کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔

کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ چاروں ممالک کا اگلا اجلاس رواں برس پاکستان میں منعقد ہوگا۔ فوری ردعمل کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ دوطرفہ تعاون اور کوآرڈینیشن کو نچلی سطح تک بہتر کیا جائے گا۔ اس اہم ملاقات میں پاکستانی سفیر علی جاوید، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔