کاروبار اور معیشت

کراچی چیمبر کا آئی ڈی سی میں کمی پر سندھ حکومت سے اظہار تشکر

  • فیصلہ کراچی سمیت پورے سندھ میں کاروباری لاگت کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار
شائع February 26, 2026 اپ ڈیٹ February 26, 2026 12:32pm

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے سندھ حکومت کی جانب سے انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) میں کمی کے تاریخی فیصلے کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے اسے تاجر برادری کے لیے ایک بڑا ریلیف اور کراچی سمیت پورے سندھ میں کاروباری لاگت کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کے مثبت اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس 1.85 فیصد سے کم کر کے تقریباً 0.80 تا 0.85 فیصد تک کمی تجارتی اخراجات میں نمایاں کمی اور تجارتی سہولت کاری و مالی نظم و ضبط کے حوالے سےبین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا، وائس چیئرمین جاوید بلوانی اور پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین شبیر دیوان کے اہم کردار کو خصوصی طور پر سراہا جنہوں نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطح اجلاسوں میں بھرپور شرکت کی۔ ان رہنماؤں کی مسلسل کاوشیں، تکنیکی بنیادوں پر مضبوط تجاویز اور تاجر برادری کے مؤقف کی غیر متزلزل نمائندگی کے نتیجے میں یہ مثبت پیشرفت ممکن ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں باضابطہ مشاورت کا آغاز 22اپریل2025کو متعلقہ کمیٹی کے پہلے اجلاس سے ہوا جس نےایک منظم اوربامقصد مشاورتی عمل کی بنیاد رکھی جو کامیابی سے اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے۔

صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ آئی ڈی سی کا مسئلہ طویل عرصےسے درآمدکنندگان ، برآمدکنندگان، صنعتکاروں اور تاجروں کیلئے شدید تشویش کا باعث رہا ہے کیونکہ اس سے لین دین کے اخراجات میں اضافہ اور مسابقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے مسلسل مذاکرات، ڈیٹا پر مبنی پریزنٹیشنز اور اصولی مؤقف کے ذریعے کے سی سی آئی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آئی ڈی سی کا معقول ہونا تجارت کے فروغ، مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کےفروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

ریحان حنیف نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت آنے والی اشیاء کو آئی ڈی سی کی لیوی سے مستثنیٰ قرار دینے کے فیصلے کا خصوصی طو پر خیرمقدم کیا اور اسے ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جو براہِ راست برآمدی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026