اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ غالب، 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی
- کے ایس ای 100 انڈیکس 1,632.25 پوائنٹس کی کمی سے 164,626 پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کئی روز سے مسلسل فروخت کا دباؤ غالب ہے، بدھ کو بھی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز نسبتاً بہتر انداز میں ہوا، ایک موقع پر 100 انڈیکس 168,191 پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا، لیکن ابتدائی تجارت کے دوران ہی مارکیٹ جلد ہی دباؤ کی زد میں آگئی۔
صبح 10 بجے سے پہلے انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی جس کے بعد بحالی کی ایک معمولی کوشش کی گئی۔ تاہم یہ ریکوری بے اثر رہی کیونکہ دوپہر سے قبل مارکیٹ ایک محدود حد کے اندر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔
دوپہر 12 بجے تک فروخت کے دباؤ میں بتدریج شدت آگئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو مزید نیچے دھکیل دیا جس سے 100 انڈیکس 164,229 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,632.25 پوائنٹس یا 0.98 فیصد کی کمی سے 164,626.29 پر بند ہوا۔
اہم پیش رفت کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا اسٹاف مشن آج پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
مشن کراچی میں اسٹیٹ بینک کے حکام سے ملاقاتوں کے ذریعے مذاکرات کا آغاز کرے گا جس کے بعد آئندہ ہفتے حکومتی اقتصادی ٹیم سے بات چیت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگا۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار رہا جہاں شدید اتار چڑھاؤ، بھاری کاروباری حجم اور مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں مسلسل کمی کے باعث بینچ مارک اور سیکٹرل انڈیکسز منفی زون میں بند ہوئے۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,432.54 پوائنٹس یا 0.85 فیصد کی کمی سے 166,258.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بدھ کو آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 687.96 ملین سے کم ہو کر 619.62 ملین شیئرز رہ گیا۔
اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 38.46 ارب روپے سے کم ہو کر 29.25 ارب روپے پر آگئی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ 99.79 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی جس کے بعد سنرجیکو پی کے 70.33 ملین شیئرز اور ایف نیشنل ایکویٹیز 33.42 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 143 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،278 میں کمی اور 62 میں استحکام رہا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیا کی مالی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی جس میں جنوبی کوریا کی چپ ساز کمپنیوں کے حصص سرفہرست رہے۔ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کو سب سے محفوظ سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے اس پر بھرپور بھروسہ کررہے ہیں جبکہ جاپانی کرنسی ین بدستور توجہ کا مرکز بنی رہی۔
حالیہ مہینوں میں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے والے سرمایہ کار واشنگٹن میں منگل کی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے بھی منتظر تھے۔ مارکیٹ شرکاء ایسی ممکنہ وضاحتوں کے لیے خود کو تیار کررہے ہیں جو تجارت سے لے کر اشیاء کی سستی فراہمی اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ بلند رہا۔
جاپان کا نکئی 225 ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا اور ابتدائی کاروبار میں 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 57,956.92 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا رہا جبکہ دورانِ کاروبار یہ 58,047.89 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گیا۔
ٹاپکس معمولی 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 3,818.73 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
جنوبی کوریا کا کوپسی تقریباً 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ 6,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا جب کہ رواں سال کے دوران انڈیکس میں مجموعی طور پر 44 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔