مارکٹس

روس یوکرین مذاکرات کے اچانک خاتمے پر تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ؛ ایران،امریکہ کشیدگی نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 1.96 ڈالر، یا 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 69.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل میں 1.75 ڈالر، یا 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 64.08 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع February 18, 2026 اپ ڈیٹ February 18, 2026 10:40pm

جنیوا میں یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات محض دو گھنٹے بعد ختم ہونے کے بعد بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوگیا، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی سے متعلق سرمایہ کاروں کے خدشات بھی برقرار رہے۔

سوئٹزرلینڈ میں یوکرین سے متعلق امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دو مرتبہ عندیہ دیا کہ پیش رفت کا انحصار یوکرین پر ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ان بیانات کو ”مشکل“ قرار دیا۔

برینٹ کروڈ آئل فیوچرز 1.96 ڈالر یا 2.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1440 جی ایم ٹی پر 69.38 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 1.75 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 64.08 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ منگل کو دونوں معاہدے دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئے تھے۔

تیل بروکریج فرم پی وی ایم کے تجزیہ کار تھامس ورگا نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ یوکرین اور ایران سے متعلق جیو پولیٹیکل مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ان کے بقول، گزشتہ روز کی کمی کو خریداری کے موقع کے طور پر دیکھا گیا۔

منگل کو قیمتوں میں کمی اس امید کے باعث آئی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہو رہی ہے، جب ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری مذاکرات کے اہم ”رہنما اصولوں“ پر اتفاق ہو چکا ہے۔

تاہم بدھ کو ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران اور روس جمعرات کو بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں بحری مشقیں کریں گے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، ”سکیورٹی احتیاطی تدابیر“ کے تحت آبنائے ہرمز کے بعض حصے عارضی طور پر بند کیے گئے، جو عالمی تیل سپلائی کا اہم راستہ ہے۔ بعد ازاں سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ آبنائے چند گھنٹوں کے لیے بند رہی، تاہم مکمل بحالی کی وضاحت نہیں کی گئی۔

ایس ای بی کے چیف کموڈٹیز تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے ایک نوٹ میں کہا کہ ایران اب ٹرمپ کی مذاکراتی حکمت عملی سے آگاہ ہے اور جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل تک لے جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔

پولیٹیکل کنسلٹنسی یوریشیا گروپ نے اپنے کلائنٹس کے لیے جاری نوٹ میں کہا کہ اپریل کے اختتام تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے 65 فیصد امکانات ہیں۔

دوسری جانب امریکی خام تیل کے ذخائر سے متعلق رپورٹس بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز رہیں گی۔ امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ بعد ازاں جاری ہوگی، جبکہ جمعرات کو انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔