پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے اسٹاک ایکسچینج میں تقریب کا انعقاد
- یہ لین دین شفاف، مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی نجکاری کیلئے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی
اسٹاک ایکسچینج میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی جس میں حکومتی شخصیات، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ سی ای او پاکستان اسٹاک ایکسچینج فرخ سبزواری، اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب گروپ چیئرمین عارف حبیب سمیت متعدد نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔ تقریب کو سرمایہ کار برادری نے ملک میں نجکاری کے نئے دور کے آغاز کی علامت قرار دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری میں سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی جس میں تقریباً 250 ارب روپے کی مجموعی بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ پاکستان کے نجکاری کے ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ لین دین شفاف، مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی نجکاری کیلئے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو مالیاتی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کا یہ سودا قومی خزانے پر مالی بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔
ایس ای سی پی کمشنر نے پائیدار معاشی ترقی، پالیسی کی شفافیت اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے کیپٹل مارکیٹس (سرمایہ کاری کی منڈیوں) کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
عارف حبیب نے اسے ایک سنگ میل قرار دیا جس کے تحت 55 ارب روپے حکومت کو ملیں گے جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے کی مستقبل کی ترقی اور وسعت کے لیے سرمایہ کاری کے طور پر لگائے جائیں گے۔ عقیل کریم ڈھیڈھی نے اسے ایک مثالی لین دین“ (بینچ مارک ٹرانزیکشن) قرار دیا اور سابق نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے پی آئی اے کی ضمانتوں کی تنظیمِ نو کی، جس سے اس سودے کی راہ ہموار ہوئی۔
چیف ایگزیکٹو پی ایس ایکس فرخ سبزواری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت نجکاری کا عمل جاری تھا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سسٹم کے نفاذ میں مصروف تھی اور عالمی سرمایہ کار اس پیشرفت کو سراہ رہے ہیں۔