اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کا مینڈیٹ 12 ماہ کیلئے بڑھا دیا
- سکیورٹی کونسل کے 15 ارکان نے قرارداد 2816 (2026) متفقہ طور پر منظور کی، جس کے تحت تمام ممالک کو قرارداد 2255 (2015) کے تحت عائد پابندیوں پر عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے طالبان اور اس سے وابستہ گروپوں اور افراد کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ کو 12 ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔
سکیورٹی کونسل کے 15 ارکان نے قرارداد 2816 (2026) متفقہ طور پر منظور کی، جس کے تحت تمام ممالک کو قرارداد 2255 (2015) کے تحت عائد پابندیوں پر عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ پابندیاں طالبان اور اُن سے وابستہ افراد، گروپس، ادارے اور تنظیمیں جنہیں افغانستان کی امن، استحکام اور سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، پر عائد ہیں۔
پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد کی منظوری کے بعد کہا کہ پاکستان افغان زمین پر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی سے گہری تشویش رکھتا ہے۔ ان گروپوں میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ شامل ہیں، جو پاکستان میں کئی وحشیانہ دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہیں۔
سفیر نے کہا کہ اس ماہ ہی پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 80 بے گناہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو بغیر سزا کارروائی کرنے سے روکیں اور اپنے انسداد دہشت گردی کے وعدوں کو عملی اقدامات کے ذریعے پورا کریں تاکہ دیرپا امن اور سکیورٹی ممکن ہو۔
عاصم احمد نے سلامتی کونسل کے پیغام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد افغان عوام کے کئی چیلنجز، جیسے منشیات کی سمگلنگ، انسانی ہمدردی کے بحران اور افغان خواتین و لڑکیوں کے حقوق، کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
قرارداد کے تحت، افغانستان سنکشن کمیٹی کی معاونت کے لیے نگرانی ٹیم کے مینڈیٹ کو اس ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد مزید 12 ماہ کے لیے بڑھایا گیا ہے۔ ٹیم پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات پر معلومات اکٹھی کرے گی، کمیٹی کو آگاہ کرے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی کے لیے سفارشات فراہم کرے گی۔