پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے پیر کے روز کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں، اور پاکستان باضابطہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ہی اپنا موقف پیش کرے گا۔

ملتان سلطانز کی نیلامی کی تقریب کے بعد لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ورلڈ کپ کے دوران پیدا ہونے والا مسئلہ بنیادی طور پر بنگلہ دیش اور آئی سی سی کے درمیان تھا۔

انہوں نے کہا کہ ”بنگلہ دیش ہمارا برادر ملک ہے۔ ہم نے ان کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات کیے۔“

جاری مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بات چیت سے اکثر مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ” جب مہمان خود آپ کے گھر آتے ہیں تو کئی معاملات بھلا دیے جاتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ مہمانوں کی عزت کو اہم سمجھا ہے۔“

ممکنہ آئی سی سی سزاؤں کے بارے میں سوال پر پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ نہ وہ اور نہ ہی حکومت کسی بھی دھمکی سے پریشان ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ” میں دھمکیوں سے نہیں ڈرتا، نہ ہی حکومت۔ اور آپ فیلڈ مارشل [سید عاصم منیر] کو بھی جانتے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دوست ممالک اس مسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں اور اسلام آباد کے موقف سے آگاہ ہیں، اور ان کا اعتماد ہے کہ جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔

دوسری جانب، ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی سی سی مین ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

اس سلسلے میں اتوار کو لاہور میں محسن نقوی اور آئی سی سی کے نائب چیئرمین عمران خواجہ کے درمیان چار گھنٹے کا اجلاس ہوا، جس میں ورلڈ کپ، ممکنہ پاکستان اوربھارت شیڈول میچ اور کرکٹ سے متعلق دیگر معاملات پر بات چیت کی گئی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی خصوصی رعایت کی تلاش میں نہیں ہے، لیکن بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔