پاکستان

پاکستان اور قازقستان کے درمیان مذاکرات میں نجی شعبہ توجہ کا مرکز

  • دونوں فریقین کا دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے مقصد سے مشترکہ ورکنگ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور قازقستان نے بدھ کو ایک مشترکہ ورکنگ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد آئندہ پانچ سالوں کے دوران دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدرقاسم جومارت توکایووف کے درمیان ایک ملاقات کے دوران کیا گیا۔ قازق صدر پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر تھے جو 4 فروری کو اختتام پذیر ہوا۔

وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر صدرقاسم جومارت توکایووف کا وزیراعظم شریف نے پرتپاک استقبال کیا۔ ان کے اعزاز میں ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس کے بعد نجی سطح کے مذاکرات اور وفود کی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہا، جن میں دونوں ممالک کے اہم وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں میں چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔

وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران اپنے خطاب میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے صدر توکایف کے دورہ پاکستان کو پاک-قازق تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 23 برسوں میں کسی قازق صدر کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے دوطرفہ تعلقات کے وسیع دائرہ کار کا جائزہ لیا اوراعلیٰ سطح کے تبادلوں میں بڑھتے ہوئے تسلسل کے ساتھ ساتھ موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے کی تاثیر پر اطمینان کا اظہار کیا جن میں دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ بین الحکومتی کمیشن شامل ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دوطرفہ تجارت میں مثبت رجحان کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے دونوں رہنماؤں نے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے آئندہ ہونے والے پاکستان-قازقستان بزنس فورم کا خیرمقدم کیا اور اسے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

مذاکرات کے دوران علاقائی روابط اور ٹرانسپورٹ کے رابطوں کو بھی ترجیح دی گئی، جس میں دونوں فریقین نے سڑک، ریل، فضائی اور سمندری ذرائع نقل و حمل میں تعاون کو مضبوط بنانے کا عہد کیا۔

رہنماؤں نے ٹرانزٹ ٹریڈ انتظامات اور علاقائی راہداریوں کی اہمیت پر زور دیا جو معاشی انضمام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

بات چیت میں تعلیم، سیاحت، توانائی اور ثقافتی تبادلوں سمیت دیگر شعبوں کا بھی احاطہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ تعلیمی روابط اور عوامی سطح پر تبادلے طویل المدتی دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دورے کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دستخط شدہ معاہدے جن میں 37 مفاہمتی یادداشتیں اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا مشترکہ اعلامیہ شامل ہے تعاون کی نئی راہیں کھولیں گے۔

صدرقاسم جومارت توکایووف نے اپنے اور اپنے وفد کے قیام کے دوران پرتپاک مہمان نوازی پر وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے وزیرِاعظم کو رواں سال کے اواخر میں قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جس پر شہباز شریف نے مثبت جواب دیتے ہوئے علاقائی امن، روابط اور ترقی کے لیے قازقستان کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم آفس میں منعقدہ ایک علیحدہ تقریب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف اور صدر توکایف نے کھیل اور تعلیم کے شعبوں میں دو اہم منصوبوں کے آغاز کی یاد میں یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی بھی کی۔

پہلی تختی کی نقاب کشائی قازقستان-پاکستان دوستی اسپورٹس سینٹر کے قیام کے لیے کی گئی، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے کھیلوں کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دوسری تختی تین نئے تعلیمی مراکز کے قیام کی یادگار کے طور پر نصب کی گئی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں اور طلبہ کے درمیان اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔

ان میں ایک ’ٹیکنیکل ریسرچ سینٹر کا قیام شامل ہے جسے تین یونیورسٹیوں کے اشتراک سے تیار کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ’احمد یسوی ریسرچ سینٹر‘ اور الفارابی سینٹر بھی قائم کیے جائیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026