پاکستان

وافی انرجی کا پاکستان میں 100 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا عندیہ

  • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کے درمیان اعلیٰ سطح اجلاس
شائع February 2, 2026 اپ ڈیٹ February 2, 2026 02:13pm

سعودی عرب کی معروف توانائی کمپنی وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نے پیر کو پاکستان میں آئندہ دو سے تین سال کے دوران 100 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اشارہ دیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں اپنے ریٹیل نیٹ ورک کو پھیلانا اور اسٹوریج کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے جس میں نیٹ ورک کی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

یہ پیشرفت پیر کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔

اجلاس فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا جس میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کی قیادت جاوید اختر (چیف فنانس آفیسر، اسید گروپ و بورڈ ممبر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ) نے کی جبکہ وفد میں زبیر شیخ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) اور ضرار محمود (چیف فنانس آفیسر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ) بھی شامل تھے۔

اجلاس نے کمپنی کے موجودہ آپریشنز، مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات اور آئل مارکیٹنگ و توانائی شعبے سے متعلقہ امور کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ زرِ مبادلہ کی دستیابی میں بہتری براہِ راست وسیع تر میکرو اکنامک ڈسپلن اور اصلاحات کا نتیجہ ہے، اور بیرونی مالیاتی ذخائر کو مضبوط بنانے سے جائز کاروباری لین دین، بشمول منافع کی واپسی اور سرحد پار ادائیگیوں، کو ہموار طریقے سے سہولت فراہم کی جا سکے گی۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل میکرو اکنامک استحکام حکومت کی معاشی حکمت عملی کا سنگ بنیاد ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی دستیابی میں بہتری، وسیع تر معاشی نظم و ضبط اور اصلاحات کا براہِ راست نتیجہ ہے ۔

محمد اورنگزیب نے مشاہدہ کیا کہ بہتر ہوتے ہوئے مجموعی معاشی اشارے پہلے ہی مقامی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیشرفت ایک سازگار سرمایہ کاری کے ماحول کے بنیادی عناصر کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید اس بات کو اجاگر کیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی شرکت، غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس موقع پر انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز اور اسٹرکچرڈ فنانس کے کردار پر بھی بات کی گئی۔ وزیر خزانہ نے نوٹ کیا کہ صوبائی سطح پر کامیاب تجربات اس طرح کے ماڈلز کی صلاحیت کو ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے انفرااسٹرکچر کی ترقی میں معاونت کے لیے منظم مالیاتی حل کی حوصلہ افزائی اور بینکنگ سیکٹر کے ساتھ مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔

دریں اثنا وفد نے وزیرخزانہ کو آگاہ کیا کہ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نے بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک استحکام کی بدولت بہتر آپریٹنگ حالات (کاروباری ماحول) سے فائدہ اٹھایا ہے۔ وفد نے اپنی وسیع تر گروتھ اسٹریٹجی (ترقیاتی حکمت عملی) کے حصے کے طور پر آنے والے سالوں میں اپنے ریٹیل نیٹ ورک اور اسٹوریج (تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش) کو وسعت دینے کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔

وفد نے پاکستان کے معاشی منظرنامے پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا اور پاکستان کے ساتھ روابط بڑھانے میں بین الاقوامی اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا۔

وفد نے محمد اورنگزیب کو ملک میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے موجودہ آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ کمپنی ملک گیر سطح پر ایک وسیع ریٹیل نیٹ ورک چلا رہی ہے، جسے جدید کاری اور کارکردگی میں جاری سرمایہ کاری کے ذریعے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ بہتر میکرو اکنامک حالات اور آپریٹنگ ماحول میں زیادہ پیش گوئی کی صلاحیت نے کمپنی کو حالیہ کاروباری انضمام کے بعد سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور بڑھانے کے قابل بنایا ہے۔

وفد نے مزید آگاہ کیا کہ وافی انرجی پاکستان کی آئندہ سرمایہ کاری کا مقصد سپلائی کی لچک کو مضبوط بنانا، سروس کے معیار کو بہتر بنانا اور پاکستان میں توانائی کے شعبے کی طویل مدتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

وفد نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ اپنی وسیع تر جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت اپنے آپریشنز میں پہلے ہی نمایاں ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کر چکی ہے جو کہ شفافیت، کارکردگی اور ریگولیٹری تعمیل (قوانین کی پاسداری) کے لیے کمپنی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وفد نے آئل مارکیٹنگ شعبے کے آپریٹنگ ماحول سے متعلق امور بھی اٹھائے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں کیلئے مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔

مزید برآں، وفد نے بعض مالیاتی اور ٹیکسوں سے متعلقہ معاملات کی طرف توجہ دلائی اور کاروباری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ایک واضح، مستقل اور قابلِ پیش گوئی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید مشاہدہ کیا کہ حکومتی پالیسیوں کو وسیع تر سرمایہ کاری اور اصلاحاتی اہداف کے مطابق ڈھالنے کے لیے حکومت اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت فائدہ مند ثابت ہوگی۔

وزیر خزانہ نے نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کو بنیادی پالیسی سمت کے طور پر برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبہ تجارتی اثاثوں کو زیادہ مؤثر اور بہتر طریقے سے چلانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ حالیہ نجکاری کے اقدامات نے سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے اور واضح کیا کہ مستقبل کی تمام تر ٹرانزیکشنز وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق شفاف، مسابقتی اور بھرپور تشہیر والے عمل کے ذریعے مکمل کی جائیں گی۔