امریکہ کے ساتھ کشیدگی پر بات چیت کیلئے ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ ترکیہ کا فیصلہ
- ایرانی حکام نے ملک میں جاری حالیہ بے چینی کا ذمہ دار دشمن ممالک اسرائیل اور امریکہ کو ٹھہرا دیا
ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعہ کو ترکیہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب ہاکان فیدان سے ایران کی حالیہ صورتحال اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ڈیل نہ کرنے کی صورت میں بدترین حملے کی دھمکی دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے۔
تہران نے جس پر حالیہ عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کا الزام ہے امریکہ اور اسرائیل کو بھرپور جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی حکام ان مظاہروں کو بیرونی سازش قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب نیٹو رکن ترکیہ نے ایران پر کسی بھی بیرونی حملے یا مداخلت کی سخت مخالفت کی ہے۔
ہاکان فیدان ایرانی وزیرِ خارجہ کو آگاہ کریں گے کہ تہران کا استحکام انقرہ کے لیے ناگزیر ہے اور ترکیہ اس تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتا ہے۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ ایران پر فوجی حملہ عالمی سطح پر سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔