دنیا

امریکہ کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں شدید سردی کے باعث 38 افراد ہلاک

  • مقامی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان جمعہ سے شدت اختیار کرنا شروع ہوا اور اختتام ہفتہ پر بڑے علاقے میں برف باری ہوئی
شائع اپ ڈیٹ

ایک شدید سرد موسم کی طوفانی صورتحال میں منگل تک امریکہ کے 14 ریاستوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جہاں برف باری، برف کی تہہ اور صفر سے کم درجہ حرارت نے وسیع علاقے کو لپیٹ میں لے لیا۔

مقامی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان جمعہ سے شدت اختیار کرنا شروع ہوا اور اختتام ہفتہ پر بڑے علاقے میں برف باری ہوئی۔ اس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہوئی، پروازیں منسوخ ہو گئیں اور بجلی کی بندش ہوئی۔ طوفان کے بعد بھی سخت سردی رہی، جو مزید کئی دنوں تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔

نیو یارک سٹی میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جہاں درجہ حرارت آٹھ سال میں سب سے کم، صرف 8 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا۔ میئر زوہران ممدانی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد باہر پائے گئے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ بے گھر تھے یا نہیں۔ شہر نے ہوم لیس آبادی کی سالانہ گنتی اگلے ماہ تک ملتوی کر دی۔

نینس ول، ٹینیسی میں بھی شدید سردی کے اثرات دیکھنے کو ملے۔ وہاں 135,000 سے زائد گھر اور کاروبار بغیر بجلی کے ہیں اور درجہ حرارت بدھ کی صبح تک 6 ڈگری فارن ہائیٹ تک گرنے کا امکان ہے۔ میئر فریڈی او کونل نے اسے تاریخی برفیلا طوفان قرار دیا۔ شہر کے ہوم لیس شیلٹرز میں غیرمعمولی تعداد میں افراد کو پناہ دی گئی، جبکہ امدادی کارکن مسلسل سڑکوں پر نگرانی کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں ہلاکتوں کی وجوہات میں زیادہ تر ہائپو تھرما، شدید سردی اور برف ہٹانے کے دوران دل کے مسائل شامل ہیں۔ ٹیکساس میں تین بچے برف کے تالاب میں گرنے سے ہلاک ہوئے، جبکہ آسٹن میں ایک شخص خالی گیس اسٹیشن میں پناہ لینے کی کوشش کے دوران ہائپو تھرما کے سبب فوت ہوا۔ دیگر ہلاکتیں کنساس، کینٹکی، لوئیزیانا، مسیسیپی، ساؤتھ کیرولائنا، ٹینیسی اور مشی گن میں رپورٹ ہوئیں۔

تقریباً 200 ملین امریکی اب بھی سردی کے کسی نہ کسی انتباہ کے تحت ہیں اور محکمہ موسمیات نے اس ہفتے کے آخر میں مشرقی ریاستوں میں ایک اور ممکنہ برفانی طوفان کی پیش گوئی کی ہے۔