کاروبار اور معیشت

کسٹمز نے 2.31 ٹریلین روپے کی تاریخی محصولات (ریونیو) جمع کر لیں

  • گزشتہ سال کے مقابلے میں محصولات میں 20 فیصد اضافہ، کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی وصولی 48 فیصد تک بڑھ گئی، ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ
شائع January 27, 2026 اپ ڈیٹ January 27, 2026 01:29pm

پاکستان کسٹمز نے 2.31 ٹریلین روپے کی تاریخی ریونیو وصولی کا اعلان کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

بین الاقوامی کسٹمز ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ مینوئل (دستی) طریقہ کار سے مکمل ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو بڑھانا اور تجارت کو سہل بنانا ہے۔

کسٹمز کی ڈیجیٹل پریزنٹیشن کے مطابق تمام شعبوں میں کارکردگی اور قانون کے نفاذ میں تیزی دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر 2.31 ٹریلین روپے جمع کیے گئے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں وصولی میں 48 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔

قانون نافذ کرنے کے محاذ پر پاکستان کسٹمز نے رواں سال 41 ارب روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان ضبط کیا، جبکہ محکمے نے 3.85 ملین (ساڑھے 38 لاکھ) کنٹینرز کی کلیئرنس کا عمل کامیابی سے مکمل کیا۔

سید شکیل شاہ نے کہا کہ اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا براہ راست فائدہ باضابطہ معیشت کو پہنچا ہے۔ غیر قانونی تجارت پر گھیرا تنگ کرنے سے پیٹرولیم مصنوعات، ٹائروں اور ٹیکسٹائل کی قانونی درآمدات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ یہ تبدیلی ان غیر قانونی ذرائع کے خلاف اسٹریٹجک کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہے جو پہلے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے تھے۔

ممبر کسٹمز آپریشنز نے محکمے کی جدید کاری کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان سنگل ونڈو اور ’فیس لیس (بلا واسطہ) کسٹمز سسٹم کی طرف منتقلی پر روشنی ڈالی۔ اس ڈیجیٹل تبدیلی کا مقصد انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے، جس سے کرپشن کے خاتمے اور کاروبار کی رفتار میں بہتری کی توقع ہے۔

اہم اقدامات میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کا قیام اور کارگو کی نگرانی کے جدید نظام شامل ہیں، تاکہ ملک میں ’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘ (کاروبار میں آسانی) کو فروغ دیا جا سکے۔ قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر توجہ ڈیجیٹلائزیشن اور قانونی ذرائع سے تجارت کے فروغ پر مرکوز رہے گی۔