پاکستان

چاول برآمد کنندگان کیلئے 15 ارب روپے کی معاونت، وزارت تجارت کے فیصلے پر برآمدی شعبوں کا شدید ردعمل

  • اس فیصلے کے تحت نان باسمتی چاول پر ایف او بی ویلیو کا 3 فیصد اور باسمتی چاول پر 9 فیصد تک معاونت 30 جون 2026 تک فراہم کی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

وزارت تجارت کی جانب سے چاول کے برآمد کنندگان کو نقصانات کے ازالے کے لیے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ( ای ڈی ایف) سے 3 ماہ کے لیے 15 ارب روپے کی مالی معاونت دینے کے اچانک فیصلے پر دیگر برآمدی شعبوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نان باسمتی چاول پر ایف او بی ویلیو کا 3 فیصد اور باسمتی چاول پر 9 فیصد تک معاونت 30 جون 2026 تک فراہم کی جائے گی، جبکہ مجموعی ای ڈی ایف بجٹ بڑھا کر 27.3 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اس فیصلے پر برآمدی برادری میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے کنوینر اعجاز کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی ایک شعبے کو خصوصی سہولت دینا منصفانہ مسابقت کے اصولوں کے منافی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل کا شعبہ ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 55 سے 56 فیصد فراہم کرتا ہے، سب سے زیادہ زرمبادلہ کماتا ہے اور بڑے پیمانے پر روزگار مہیا کرتا ہے، مگر اسے بڑھتی لاگت، لیکویڈیٹی دباؤ اور غیر یقینی پالیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

یہ معاملہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے دورے کے دوران بھی اٹھایا گیا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ملبوسات کے برآمد کنندگان میں خاص طور پر بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ انہیں مسابقتی معاونت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ ڈیوٹی ڈرا بیک آن لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز ایک وفاقی پالیسی آلہ ہے جو ماضی میں بجٹ پیکجز کے ذریعے دیا جاتا رہا ہے اور اسے ای ڈی ایف کے ذریعے دینا قانونی دائرہ کار سے باہر ہے۔ مزید کہا گیا کہ ای ڈی ایف میں فنڈز خود برآمد کنندگان کے عطیات سے آتے ہیں، اس لیے متعلقہ شعبہ جاتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر ان کا استعمال درست نہیں۔

ایسوسی ایشن نے 19 جنوری 2026 کو ہونے والے ای ڈی ایف بورڈ کے اجلاس کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام برآمدی شعبوں کو مساوی بنیادوں پر معاونت دی جائے، ڈی ایل ٹی ایل اسکیم جاری رکھی جائے، ویلیو ایڈڈ برآمدی صنعت کے لیے مسابقتی توانائی ٹیرف بحال کیے جائیں اور تمام شعبوں کے نمائندوں کا ہنگامی اجلاس بلا کر شفاف اور متوازن برآمدی پالیسی ترتیب دی جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026