دنیا

یوکرین امن مذاکرات، صرف ایک نکتہ حل طلب رہ گیا ہے، امریکی ایلچی

  • امریکہ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں
شائع January 22, 2026 اپ ڈیٹ January 22, 2026 02:00pm

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعرات کو کہا ہے کہ یوکرین میں امن کے لیے جاری مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور بات چیت اب صرف ایک آخری نکتے تک محدود رہ گئی ہے۔

امریکہ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں، جبکہ کیف اور یورپی رہنماؤں سے بھی مختلف مسودات پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار معاہدہ طے کرانے کے وعدوں کے باوجود تاحال کوئی حتمی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اگر دونوں فریق واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا حل نکل آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے بھی ڈیووس فورم میں کہا تھا کہ اگر روس اور یوکرین کے رہنما کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے تو یہ ان کی بڑی حماقت ہوگی۔

اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ وہ اسی روز ماسکو روانہ ہو رہے ہیں تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے یوکرین کے مستقبل پر ایک ناشتے کی نشست میں غیر متوقع طور پر شرکت کی، جس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب بھی شامل تھے۔

اس موقع پر مارک روٹے نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ توجہ یوکرین پر مرکوز رکھنا ضروری ہے اور اس مقصد سے نظریں نہیں ہٹنی چاہئیں۔