پاکستان

پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر کے 3 اہم معاہدوں پر دستخط

  • معاہدوں کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک ایم-6 سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 475 ملین ڈالر فراہم کرے گا
شائع January 21, 2026 اپ ڈیٹ January 21, 2026 11:08am

پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان تقریباً 603 ملین امریکی ڈالر کے تین معاہدوں پر دستخط ہوگئے ۔ یہ معاہدے ایم-6 سکھرحیدرآباد موٹروے منصوبہ، انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کی غربت سے نجا ت کے منصوبہ اور آزاد جموں و کشمیر میں اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے منصوبہ کی مالی معاونت کے لیے کیے گئے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد طے پائے جن میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد کی قیادت میں بینک کا وفد شامل تھا۔

منصوبہ جاتی معاہدوں پر باضابطہ دستخط اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری محمد حمیر کریم نے کیے۔


اس موقع پر وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

معاہدوں کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک ایم-6 سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 475 ملین ڈالر فراہم کرے گا جو مجوزہ پشاورکراچی موٹروے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اوراسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کی غربت سے نجات منصوبے کے آغاز کا معاہدہ بھی طے پایا، جو ایک تاریخی اقدام ہے۔ اس منصوبے کا مقصد انتہائی غریب گھرانوں کو محض نقد امداد پر انحصار کے طریقہ کار سے نکال کر پائیدار روزگار، معاشی خود کفالت اور موسمیاتی لچک کی طرف منتقل کرنا ہے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت 134.2 ملین ڈالر ہے جس میں سے 118.4 ملین ڈالر اسلامی ترقیاتی بینک فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، جن میں 20 اضلاع (ملٹی ڈائمنشنل پاورٹی انڈیکس 2024 کی بنیاد پر منتخب) اور 2022 اور 2025 کے سیلاب سے متاثرہ 5 اضلاع شامل ہیں۔

منصوبے کے تحت 160866 گھرانوں تک رسائی حاصل کی جائے گی اور روزگار کے ایک لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے، جن میں اثاثہ جاتی معاونت، بلاسود قرضے، ہنر مندی کی تربیت، بارش کے پانی کا ذخیرہ، موسمیاتی موافق زراعت اور کاروباری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی معاونت شامل ہے۔

ترجمان وزارت اقتصادی امورنے بتایا کہ یہ معاہدہ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ محض کھپت پر مبنی سماجی تحفظ کے طریقہ کارسے نکل کر غربت سے تدریجی نجات اور لچکدار ترقی کے ماڈل کی طرف بڑھا جائے، جو قومی ترجیحات اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

ایک اورمعاہدے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں سکولوں سے باہر بچوں کے منصوبے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک 10 ملین ڈالر فراہم کرے گا جس کے ذریعے تقریباً 60 ہزار بچوں کو دوبارہ سکولوں میں لایا جائے گا جبکہ 4000 اساتذہ کی تربیت بھی کی جائے گی۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر نے کہا کہ بینک پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔


کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026