پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے ڈیووس روانہ

  • وزیراعظم عالمی اور علاقائی امن و ترقی کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کریں گے
شائع January 20, 2026 اپ ڈیٹ January 20, 2026 01:02pm

وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کیلئے ڈیووس، سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے۔

وزیرِ اعظم کے ہمراہ ایک اعلی سطح وفد بھی ہے جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔

اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی اہم سفارتی اور اقتصادی مصروفیات ہوں گی۔ وہ مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

وزیراعظم عالمی اور علاقائی امن و ترقی کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ وزیرعظم معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے شعبوں میں حکومت کے وژن اور کامیابیوں کو اجاگر کریں گے۔

دورے کا ایک اہم حصہ بزنس رانڈ ٹیبل اجلاس ہے جس کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کر رہے ہیں۔ اجلاس میں عالمی سطح کی نمایاں کمپنیوں کے رہنما شریک ہوں گے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس سیاسی رہنمائوں، کاروباری شخصیات، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔ اجلاس میں عصری، جغرافیائی ،سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان کی حالیہ معاشی ترقی پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

محمد اورنگزیب نے اپنے سعودی ہم منصب کو اہم میکرو اکنامک اشاریوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے جو اب تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں (امپورٹ کور)، جو ملکی معیشت کی بہتر ہوتی ہوئی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔