کاروبار اور معیشت

ڈسکوز کی ناقص کارکردگی: مالی سال 25 میں گردشی قرضوں میں 397 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ

  • مالی سال 25 کے اختتام پر بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت کم ہو کر 41,121 میگاواٹ رہ گئی
شائع January 17, 2026 اپ ڈیٹ January 17, 2026 02:22pm

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعہ کو جاری کردہ اپنی اسٹیٹ آف دی انڈسٹری رپورٹ 2025 میں انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی ناقص کارکردگی ملک کے گردشی قرضوں میں 397 ارب روپے کے اضافے کا باعث بنی۔

رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ تقابلی طور پر مہنگی اور کم استعمال ہونے والی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو معقول بنانے (ریشنلائز کرنے) اور ختم کرنے کی کوششوں سمیت، ٹیرف میں کمی کے لیے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ سخت مذاکرات ایک اہم سنگِ میل تھے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ توانائی شعبے میں جڑی ہوئی نااہلیاں، ناقص منصوبہ بندی، ڈیجیٹلائزڈ اور قابلِ بھروسہ ڈیٹا کی کمی اور کمزور گورننس دیگر سنگین تشویشناک وجوہات میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں) کی ناقص کارکردگی گردشی قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے جس نے زیرِ جائزہ مدت [مالی سال 25] کے دوران تقریباً 397 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ زیادہ اے ٹی اینڈ سی (مجموعی تکنیکی و تجارتی) نقصانات کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کرنا غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے، جو بل ادا کرنے والے صارفین کو ناحق سزا دیتا ہے۔ اس عمل سے ایک طرف بجلی پیدا کرنے کی ٹیک اینڈ پے کی صلاحیت کا پورا استعمال نہیں ہو پاتا، تو دوسری طرف یہ پورے پاور سیکٹر میں نااہلیوں کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنتا ہے۔’

ریگولیٹر (نیپرا) نے یہ بھی کہا کہ یہ شعبہ ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں کمی کا پرانا دور ختم ہو رہا ہے، تاہم نیا دور جو زائد پیداواری صلاحیت، ڈھانچہ جاتی اخراجات کے دباؤ اور طلب میں تبدیلی سے عبارت ہے مزید پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔

کےالیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز میں آپریشنل نااہلیاں بدستور برقرار ہیں۔ نئے کنکشنز کے حصول، میٹر کی تبدیلی اور نیٹ میٹرنگ کی منظوریوں میں تاخیر ایک عام بات بن چکی ہے۔ اوور بلنگ کے طریقے، خاص طور پر قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر جاری کیے گئے ڈیٹیکشن بلز اور زائد بلنگ کی بار بار آنے والی شکایات صارفین کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔

اپنی تفصیلی تشخیص میں نیپرا نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈھانچہ جاتی اور پالیسی کی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے باوجود مجموعی پیش رفت محدود اور ناکافی رہی ہے۔

دریں اثنا مالی سال 25 کے اختتام پر بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت کم ہو کر 41,121 میگاواٹ رہ گئی، جو مالی سال 24 کے اختتام پر 45,888 میگاواٹ تھی۔ اس کمی کی بڑی وجہ غیر فعال اور ناکارہ بجلی گھروں کو بند کر کے ٹیک اینڈ پے کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے بوجھ کو کم کرنے کی کوششیں تھیں۔

نیپرا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ‘ (این جی سی) کی ناقص کارکردگی نہ صرف اس کے اپنے ٹرانسمیشن ٹیرف کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے نظام میں موجود متعدد رکاوٹیں بجلی گھروں کو ’اکنامک میرٹ آرڈر‘ (سستی بجلی کو ترجیح دینے کا اصول) کی خلاف ورزی پر مجبور کر رہی ہیں۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بجلی کی ترسیل کا ہر منصوبہ تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار ہے۔ ان میں سے کے-الیکٹرک اور این جی سی سسٹمز کے درمیان باہمی رابطے (انٹر کنکشن)، لاہور نارتھ گرڈ اور دیگر منسلک ٹرانسمیشن لائنوں کی تکمیل میں تاخیر نے پاکستان کے پاور سسٹم کو شدید متاثر کیا ہے۔

ریگولیٹر (نیپرا) نے مزید کہا کہ چونکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی اکثریت سرکاری شعبے میں کام کر رہی ہے اور وفاقی حکومت کی ملکیت میں ہے، اس لیے بطور کمپنی رجسٹرڈ ہونے کے دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ حقیقی کارپوریٹ اداروں کے طور پر کام کرنے میں بڑے پیمانے پر ناکام رہی ہیں۔

یہ تاحال غیر واضح ہے کہ آیا یہ ڈسکوز خود آزادانہ طور پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں یا ان کے مالکان انہیں بااختیار بنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ تاہم یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ انہیں تیزی سے مرکزی کنٹرول میں لایا جا رہا ہے، پہلے پیپکو کے تحت اور اب پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے زیرِ اثر۔ ان کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ان اداروں کی مالی حالت بہتر بنانے یا انہیں بین الاقوامی معیار کے اداروں میں تبدیل کرنے میں بہت کم دلچسپی دکھاتے ہیں۔ مزید برآں بورڈ ممبران، چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور دیگر افسران و اہلکاروں کے لیے احتساب کا فقدان ہے۔ بازپرس اور سزا کے اس خوف کی عدم موجودگی نے ان اداروں کو موجودہ روش (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنے پر دلیر کردیا ہے جس سے پورے شعبے میں نااہلی اور ناقص کارکردگی کا تسلسل برقرار ہے۔

اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کردہ مدت میں ترسیل اور تقسیم کے اوسط نقصانات (بجلی کی منتقلی کے دوران ضیاع اور چوری) 17.4 فیصد رہے جو گزشتہ سال کے 18.31 فیصد سے کم ہیں، تاہم دونوں سالوں میں تمام ادارے نیپرا کی مقرر کردہ حد (بینچ مارک) سے پیچھے رہے جو مالی سال 25 کے لیے 11.43 فیصد اور مالی سال 24 کے لیے 11.77 فیصد تھی۔

اسی کے ساتھ ڈسکوز کی جانب سے واجبات کی وصولیاں (جو تجارتی نقصانات کا دوسرا رخ ہے) 132.5 ارب روپے کم رہیں جبکہ اکیلے کے الیکٹرک 74.6 ارب روپے وصول کرنے میں ناکام رہی تاہم نیپرا نے نوٹ کیا کہ ایک نجی ادارہ ہونے کی وجہ سے کے الیکٹرک اپنے نقصانات کا مالی بوجھ خود برداشت کرتی ہے۔ چنانچہ ریگولیٹر نے یہ دلیل دی کہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری ایک ضروری اصلاحی قدم ہے۔

نیپرا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گورننس ڈسکوز کو درپیش سب سے سنگین چیلنج ہے۔ کے الیکٹرک، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو بدترین کارکردگی دکھانے والے ادارے ہیں جن کے ترسیل و تقسیم کے نقصانات نیپرا کی حدود سے کہیں زیادہ ہیں، ریونیو کی وصولی کم ہے، اے ٹی اینڈ سی نقصانات حد سے زیادہ ہیں، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ طویل ہے، واجب الادا رقم میں اضافہ ہو رہا ہے، سروس کا معیار ناقص ہے اور صارفین میں شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ تقریباً تمام آپریشنل اور مالیاتی اشاریوں پر ان کی کارکردگی انتہائی کمزور ہے۔

کےالیکٹرک کے اصل نقصانات 14.74 فیصد رہے جبکہ اسے 14.58 فیصد کی اجازت تھی، اس کے برعکس فیسکو اپنے مقررہ ہدف سے صرف 0.64 فیصد پیچھے رہی۔

دوسری جانب پیسکو ، کیسکو ، سیپکو اور حیسکو کی کارکردگی مقررہ اہداف سے بدستور سب سے زیادہ دور رہی جہاں صرف پیسکو نے قومی خزانے کو 87.5 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

کیسکو اور سیپکو بالترتیب 52.4 ارب روپے اور 36.0 ارب روپے کے نقصان کا باعث بنے۔ لیسکو نے اگرچہ مالی سال 24 کے مقابلے میں کچھ بہتری دکھائی لیکن اس کے اصل نقصانات 9.46 فیصد کی اجازت کے مقابلے میں 13.70 فیصد رہے جس کا مالیاتی بوجھ 35.2 ارب روپے رہا۔

بلوں کی وصولی (ریکوری) کے لحاظ سے میپکو 101.7 فیصد کی شرح کے ساتھ سرفہرست رہی، جس کے بعد گیپکو اور لیسکو کا نمبر رہا۔