آئی ایم ایف پروگرام کو بڑے پیمانے پر ترقی مخالف تصور کیا جاتا ہے، اسحاق ڈار
- تقریباً 2.6 فیصد کی معاشی نمو، آبادی میں سالانہ اضافے کے مقابلے میں، حقیقی معنوں میں صفر یا منفی ترقی کے مترادف ہو سکتی ہے، وزیر خارجہ
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بدھ کے روز اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو ملک میں بڑی حد تک ترقی مخالف اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تقریباً 2.6 فیصد کی معاشی نمو، آبادی میں سالانہ اضافے کے مقابلے میں، حقیقی معنوں میں صفر یا منفی ترقی کے مترادف ہو سکتی ہے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 2.6 فیصد سے زیادہ کی معاشی ترقی ہی ملک کے لیے حقیقی نمو تصور کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کو 2017 میں 6 فیصد سے زیادہ شرحِ نمو حاصل کرنے میں تین سال لگے تھے اور مستقبل میں اس سے زیادہ ترقی حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جیو اکنامکس موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح ہے، اور عالمی معاشی شراکت داری سے نجی شعبے کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ انہوں نے چین کے ساتھ سی پیک 2.0 سمیت امریکہ، یورپ، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، روزگار اور کنیکٹیویٹی میں اضافے کا محرک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی ایشیا اور افریقہ میں بھی مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق معیشت کو اس وقت دوہرے خسارے کا سامنا ہے اور ملک کو 30 ارب ڈالر کے بیرونی کھاتے کا خلا پر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ 10 ارب ڈالر ترسیلات میں اضافہ، 10 ارب ڈالر برآمدات میں اضافہ اور 10 ارب ڈالر خدمات کے شعبے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ معاشی اصلاحات کا تقاضا مضبوط بنیادیں، ذمہ دارانہ حکمرانی، پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی بہتری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے لیکن واضح عزم کے ساتھ آگے بڑھی۔ ریاستی اداروں کی نجکاری، گردشی قرضوں میں کمی، سرکاری ڈھانچے کی درستگی اور ڈیجیٹل گورننس جیسے اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن کی مثال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، مہنگائی میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ اصلاحات کے ثمرات عوام تک پہنچیں تاکہ پائیدار معاشی استحکام ممکن ہو سکے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری دو سال کی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہوئی جس سے قومی معیشت پر بھی بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2017 میں پاکستان 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا جبکہ 2022 میں صورتحال انتہائی خراب تھیں اور انہیں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے بلایا گیا۔
انہوں نے امریکہ سے 19 فیصد ٹیرف ڈیل پر مذاکرات، یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کی تجدید اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ مزید کہا کہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کے درمیان نئے دور کے تعلقات شروع ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان، چین اور افغانستان کے سہ فریقی رابطوں کی بھی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026