پاکستان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے وابستہ کرپٹو کمپنی کے ساتھ معاہدہ
- یہ معاہدہ ستمبر 2024 میں شروع ہونے والے کرپٹو پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم ورلڈ لبرٹی اور کسی ریاست کے درمیان عوامی سطح پر اعلان کردہ اولین شراکت داریوں میں سے ایک ہے
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے مرکزی کرپٹو کاروبار ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ایک کمپنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ مذکورہ معاملے سے وابستہ ایک ذریعے نے بتایا کہ اس شراکت داری کا مقصد سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ورلڈ لبرٹی کے اسٹیبل کوائن کے استعمال کا جائزہ لینا ہے۔
یہ معاہدہ ستمبر 2024 میں شروع ہونے والے کرپٹو پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم ’ورلڈ لبرٹی‘ اور کسی ریاست کے درمیان عوامی سطح پر اعلان کردہ اولین شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
ذریعے کے مطابق اس معاہدے کے تحت ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ (ڈبلیو ایل ایف) پاکستان کے مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کے ساتھ مل کر کام کرے گی ،تاکہ اپنے یوایس ڈی ون اسٹیبل کوائن کو ریگولیٹڈ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے میں شامل کیا جا سکے۔ اس طرح یہ ٹوکن پاکستان کے اپنے ڈیجیٹل کرنسی انفرااسٹرکچر کے ساتھ مل کر کام کر سکے گا۔
اگرچہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نامی گمنام کمپنی، جو ورلڈ لبرٹی سے منسلک ہے کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم ذریعے کا کہنا ہے کہ ورلڈ لبرٹی کے سی ای او زیک وِٹکوف کے دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آج (بدھ کو) متوقع ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خزانہ اور مرکزی بینک نے فی الحال اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
اسٹیبل کوائنز ایسے ڈیجیٹل ٹوکنز ہیں جن کی قدر عام طور پر ڈالر کے ساتھ منسلک ہوتی ہے اور حالیہ برسوں میں ان کی مالیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے ایسے وفاقی قوانین متعارف کرائے ہیں جنہیں اس شعبے کے لیے سودمند سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر کے ممالک اب ادائیگیوں اور مالیاتی نظام میں اسٹیبل کوائنز کے ممکنہ کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ورلڈ لبرٹی کی وجہ سے ٹرمپ خاندان کے کاروبار (ٹرمپ آرگنائزیشن) کی آمدنی میں گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی اداروں سمیت دیگر ذرائع سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال مئی میں ابوظہبی کی سرکاری سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے بھی ورلڈ لبرٹی اسٹیبل کوائن کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج ’بائننس میں 2 ارب ڈالر کے حصص خریدے تھے۔
پاکستان کافی عرصے سے ڈیجیٹل کرنسی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ،تاکہ نقد رقم کے استعمال کو کم کیا جا سکے اور ترسیلاتِ زر جیسی سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنایا جا سکے، جو زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جولائی میں کہا تھا کہ بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔