دنیا

منیسوٹا، خاتون کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد امیگریشن حکام کیخلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے

  • 37 سالہ رینی گُڈ کو بدھ کے روز امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا،
شائع January 11, 2026 اپ ڈیٹ January 11, 2026 10:05am

منیسوٹا کے شہر منی ایپلس میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے امریکی امیگریشن ایجنٹ کے ہاتھوں ایک خاتون کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ 37 سالہ رینی گُڈ کو بدھ کے روز امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہفتے اور اتوار کو ایک ہزار سے زائد احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا گیا ہے جن میں وفاقی حکومت کی ملک بدری مہم کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

تیز سرد ہوا کے باوجود منیسوٹا کے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ وفاقی حکام اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔ شرکا نے رینی کو انصاف دو اور آئی سی ای ختم کرو جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرے ایک مقامی رہائشی علاقے تک پہنچے جہاں رینی گُڈ کو گولی ماری گئی تھی۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں نے واقعے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دستیاب ویڈیو میں گاڑی ایجنٹ سے دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مؤقف ہے کہ خاتون نے گاڑی ایجنٹ کی طرف بڑھائی جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔

واقعے سے قبل منیسوٹا میں دو ہزار سے زائد وفاقی ایجنٹس تعینات کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وفاق اور مقامی حکومتوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ اسی دوران امریکی بارڈر پیٹرول نے ایک اور ریاست اوریگون میں کار پر فائرنگ کر کے ایک مرد اور عورت کو زخمی کر دیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہوئے۔

ملک گیر سطح پر ریلیوں میں شہری حقوق کی تنظیمیں شامل ہوئیں، جنہوں نےآئی سی ای آؤٹ فار رینی گُڈ کے عنوان سے احتجاج کیے۔ فلاڈیلفیا، نیویارک اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بیشتر مظاہرے پرامن رہے، تاہم منی ایپلس میں ہوٹلوں کو نقصان پہنچا اور پولیس نے 29 افراد کو گرفتار کیا۔

ادھر تین منیسوٹا ڈیموکریٹ ارکان کانگریس کو مقامی آئی سی ای ہیڈکوارٹر میں داخلے سے روک دیا گیا، جس کو انہوں نے غیر قانونی قرار دیا۔ محکمہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات پر داخلہ روکا گیا اور ارکان کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے۔