پاکستان

450 ارب مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر، وزیراعظم نے قومی پالیسی فریم ورک کی منظوری دیدی

  • پالیسی کا مقصد اس شعبے کو عالمی تقاضوں کے مطابق استوار کرنا ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے قیمتی پتھروں کی صنعت میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے جامع نیشنل پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد اس شعبے کو عالمی تقاضوں کے مطابق استوار کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے جمعہ کے روز اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پاس تقریباً 450 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہیں، لیکن برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر سالانہ تک محدود ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات کو فوری نافذ کیا جائے اور اگلے پانچ سال میں ایک ارب ڈالر برآمدی ہدف حاصل کیا جائے۔

وزیراعظم نے ملک میں رواں سال دو سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ اس شعبے میں تحقیق، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاسکے۔ اس کے علاوہ عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں اور سرٹیفیکیشن سسٹم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان برانڈ کی ساکھ اور اعتبار میں اضافہ ہو۔

پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہے جبکہ نوجوان کاروباری افراد کو صنعتی ترقی میں فعال کردار دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتی پتھروں کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام اور باضابطہ برآمدی چینلز کے فروغ کے ذریعے ملک قیمتی زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔

مزید براں وزیراعظم نے ملک بھر میں تفصیلی جیولوجیکل سروے کرنے کی ہدایت کی تاکہ ذخائر کی نوعیت، مقام اور حقیقی قدر کا درست ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔ بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں جیسے زمرد، یاقوت، پیریڈوٹ، پکھراج اور ایکوامیرین کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اس مقصد کیلئے وزارت خزانہ کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے ویلیو چین انضمام اور نیشنل وارنٹی آفس کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے 16 دسمبر 2025 کو ایک نئے قانونی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جو قومی پالیسی کی نگران ہوگی اور بین الادارہ رابطوں کو موثر بنائے گی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے قیمتی پتھروں کی برآمدات کی اصل صلاحیت دو ارب ڈالر سالانہ تک ہے، تاہم طویل عرصے سے اس شعبے میں درست اعداد و شمار اور دستاویزی نظام کا فقدان رہا ہے۔