کاروبار اور معیشت

حکومت کی جانب سے کھاد کے بڑے کارخانوں کے لیے ماری گیس کے نئے کوٹے کی منظوری

  • کراچی میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پورٹ قاسم (پی کیو) پلانٹ کو سب سے بڑا حصہ ملے گا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی بڑی پٹرولیم اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ماری انرجیز لمیٹڈ نے جمعرات کو مطلع کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ماری فیلڈ میں واقع غازیج اور شوال کی دریافتوں سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس کی نئی الاٹمنٹ اور قیمتوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ گیس کھاد تیار کرنے والے بڑے کارخانوں (فرٹیلائزر مینوفیکچررز) کو فراہم کی جائے گی۔

کمپنی نے یہ پیشرفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کوایک نوٹس میں ظاہر کی۔

منظوری کے تحت گیس کی مقدار فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پورٹ قاسم پلانٹ، فاطمہ فرٹیلائزر کی شیخوپورہ یونٹ اور ایگری ٹیک کے داؤد خیل یونٹ کے لیے مختص کردی گئی ہے۔

نوٹس کے مطابق کراچی میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پورٹ قاسم (پی کیو) پلانٹ کو سب سے بڑا حصہ ملے گا، جہاں 104 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس سے 80 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیس شدہ سپلائی حاصل ہوگی، اس کے بعد فاطمہ فرٹیلائزر کے شیخوپورہ پلانٹ کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس سے 52 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیس شدہ گیس ملے گی، اور ایگری ٹیک کے داؤد خیل یونٹ کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس سے 38 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیس شدہ گیس فراہم کی جائے گی۔

یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ خام اور پروسیس شدہ گیس کے حجم کے درمیان فرق اس وجہ سے ہے کہ گیس کو سوئی کمپنیوں کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں شامل کرنے سے پہلے پروسیسنگ اور کمپریشن کے دوران کچھ نقصان ہوتا ہے۔

خام گیس ماری گیس فیلڈ کے اندر ہی متعلقہ کھاد کے خریداروں کو (ڈلیوری پوائنٹ پر) فراہم کی جائے گی۔ ڈلیوری پوائنٹ پر گیس کی قیمت اس ویل ہیڈ پرائس کے برابر ہوگی جس کا نوٹیفیکیشن اوگرا وقتاً فوقتاً جاری کرے گا۔

کمپنی نے مزید کہا کہ متعلقہ کھاد ساز صارفین ماری انرجیز کے ساتھ دوطرفہ گیس فروخت اور خریداری کے معاہدے کریں گے۔

کمپنی کے مطابق صارفین کو پروسیس شدہ گیس کو سوئی کمپنیوں کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے گیس پروسیسنگ اور کمپریشن کی سہولتیں نصب کرنی ہوں گی۔

اسی مناسبت سے صارفین کو اپنے متعلقہ پلانٹ سائٹس تک گیس کی ترسیل کے لیے سوئی کمپنیوں کے ساتھ تھرڈ پارٹی ایکسیس کے تحت 2018 کے قواعد اور پاکستان گیس نیٹ ورک کوڈ کے تحت تیسرے فریق تک رسائی کے انتظامات بھی کرنے ہوں گے۔

ماری انرجیز کے مطابق اگر فوجی فرٹیلائزر کمپنی (پورٹ قاسم) کو گیس فراہم کی جائے تو سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) بھی گیس سواپ کے انتظامات کریں گی۔ اس کے علاوہ، ماری انرجیز کسی بھی دستیاب حجم کو اپنے کسی بھی صارف کو فراہم کر سکتی ہے۔

تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی نے آگاہ کیا ہے کہ کھاد کے کارخانوں کو گیس فراہم کرنے والے ایچ آر ایل گیس ریزروائر میں قدرتی کمی کی صورت میں، ماری انرجیز اپنے موجودہ صارفین کی گیس کی کمی کو غازیج یا شوال ریزروائر سے گیس فراہم کر کے پورا کرسکتی ہے۔

مزید برآں حکومت نے ماڑی فیلڈ کے ایچ آر ایل ریزروائر سے جینکو II کو پہلے سے مختص 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی منسوخی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ، اینگرو فرٹیلائزر کے بیس پلانٹ کے لیے اسی ریزروائر سے گیس کا موجودہ کوٹہ 26 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 105 ایم ایم سی ایف ڈی کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے مزید مطلع کیا ہے کہ ماری ڈیپ سے ایس این جی پی ایل کو 110 ایم ایم سی ایف ڈی تک گیس کی سابقہ الاٹمنٹ جو جون 2024 میں ختم ہو گئی تھی، اسے بھی باقاعدہ بنا دیا گیا ہے اور دوبارہ ایس این جی پی ایل کو ہی مختص کر دیا گیا ہے۔