پاکستان اہم معدنیات کی برآمدات کے لیے امریکی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ، فنانشل ٹائمز
- پاکستان عالمی اینٹیمونی ذخائر میں صرف 1 فیصد حصہ رکھتا ہے
پاکستان عالمی اہم معدنیات کی مارکیٹ میں اب ایک ممکنہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن کر ابھرا ہے، کیونکہ امریکہ میں اینٹیمونی میں بڑھتی دلچسپی نے پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں۔یہ بات فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) نے پیر کو رپورٹ کی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان جسے پہلے زیادہ تر خام معدنیات کے لیے چین کے خریداروں کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اب امریکی دفاعی کمپنیوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے جو چین سے سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایف ٹی کے مطابق اینٹیمونی ٹرائی آکسائیڈ کی قیمت تقریباً 40 ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے کیونکہ چین کی سپلائی چین پر کنٹرول کے خدشات نے عالمی سطح پر معدنیات کی حفاظت کی دوڑ شروع کر دی ہے۔
ہیملیان ارتھ ایکسپلوریشن کے چیف ایگزیکٹو لیاقت علی سلطان نے بتایا کہ ہم نے سات سال تک اینٹیمونی کے حوالے سے بات چیت کی اور اب پاکستان اور امریکہ دونوں میں یہ باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ پاکستان کے پاس عالمی اینٹیمونی ذخائر کا صرف 1 فیصد ہے اور پیداوار کم ہونے کے باوجود یہ امریکی کمپنیوں کی توجہ میں آ گیا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستانی کمپنی ہیملیان نے امریکہ کی نووا مائنرلز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی ہے ، تاکہ اینٹیمونی کی تلاش کے ذریعے امریکی پاکستانی اقتصادی تعلقات مضبوط کیے جائیں۔
نووا مائنرلز کے چیف ایگزیکٹو کرسٹوفر گرتیزن نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ان کی کمپنی اگلے سال پاکستان سے 100 ٹن اینٹیمونی حاصل کرے گی اور اسے الاسکا میں ٹیسٹ اور پروسیسنگ کے لیے استعمال کرے گی۔ مستقبل میں وہ پاکستان میں ڈاؤن اسٹریم پروسیسنگ بھی قائم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں زیادہ تر خام پیداوار فراہم کرتا ہے اور چین کے خریداروں کے ہاتھوں مارکیٹ کی کم قیمت پر چلا جاتا ہے لیکن امریکی کمپنیاں زیادہ قیمت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایف ٹی کے مطابق پاکستان معدنیات کی تحقیق کے لیے ایک نیا اور غیر دریافت شدہ ملک ہے، جو امریکی سرمایہ کاری کے لیے کشش کا سبب بن رہا ہے۔