✕
دنیا

ہمارا میزائل پروگرام دفاعی ، اس پر کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے ، ایران

  • میزائل پروگرام ملکی دفاع کے لیے تیار کیا ، نہ کہ کسی قسم کی گفت و شنید کے لیے ، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی صورت میں مذاکرات کا موضوع نہیں بن سکتا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ملک کی سرزمین کے دفاع اور ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ گفت و شنید کے لیے۔

اسرائیل نے جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام کو اپنی سلامتی کے لیے دو بڑے خطرات قرار دیا تھا۔ اس جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیلی شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز کے متعدد حملے کیے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ کے بعد اپنے میزائل پروگرام کو دوبارہ منظم اور وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جسے روکنے کے لیے اسرائیل مزید حملوں پر غور کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو آئندہ دورۂ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ فوجی آپشنز پیش کر سکتے ہیں۔

حالیہ جنگ میں اسرائیلی حملوں سے ایران میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد مارے گئے۔ امریکا نے مختصر طور پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔