وینزویلا کے تیل بردار بحری جہاز روکے جانے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز 44 سینٹ یا 0.73 فیصد بڑھ کر 60.91 ڈالر فی بیرل ہوگیا
خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ ہفتے کے آخر میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے ایک تیل بردار جہاز کو روکے جانے کی خبر بنی۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 44 سینٹ یا 0.73 فیصد بڑھ کر 60.91 ڈالر فی بیرل ہوگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 40 سینٹ یا 0.71 فیصد اضافے سے 56.92 ڈالر تک پہنچ گیا۔
حکام نے اتوار کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی کوسٹ گارڈ وینزویلا کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک اور تیل بردار جہاز کا تعاقب کررہا ہے۔ اگر یہ کارروائی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ہفتے کے آخر میں اس نوعیت کا دوسرا اور دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں تیسرا آپریشن ہو گا۔
آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ جغرافیائی و سیاسی واقعات کی وجہ سے ہوا ہے، جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں کے شکار وینزویلا کے تیل بردار بحری جہازوں کی مکمل اور ہمہ گیر ناکہ بندی کے اعلان اور وہاں کے بعد کے حالات سے ہوا۔ اس کے بعد بحیرہ روم میں ایک روسی ’شیڈو فلیٹ‘ (خفیہ بیڑے) کے جہاز پر یوکرینی ڈرون حملے کی اطلاعات نے قیمتوں کو مزید مہمیز دی۔
سیکامور نے کہا کہ مارکیٹ کی توقعات ختم ہورہی ہیں کہ امریکہ کی ثالثی میں روس یوکرائن امن مذاکرات جلد ہی کوئی پائیدار معاہدہ طے کرسکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعات عالمی منڈی میں تیل کی ضرورت سے زیادہ رسد کے خدشات کو دور کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے قیمتوں میں آنے والی مصنوعی گراوٹ نے مارکیٹ کو غلط اندازے کا شکار کیا جس کے بعد اب خام تیل کی قیمتوں میں خطرات کا توازن دوبارہ اوپر کی جانب (تیزی کی طرف) منتقل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
پچھلے ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 1 فیصد کم ہوئے جس سے پہلے دونوں خام تیل کے اشاریے 8 دسمبر کے ہفتے میں تقریباً 4 فیصد گرچکے تھے۔