اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، 100 انڈیکس ایک لاکھ 72 ہزار کی سطح سے قریب بند
- 100 اندیکس 1,646.79 پوائنٹس یا 0.97 فیصد اضافے سے171,960.64 پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس وسیع پیمانے پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مثبت سرمایہ کارانہ رجحانات کے درمیان نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
کے ایس ای 100انڈیکس نے پورے تجارتی سیشن کے دوران مستحکم انداز میں بالائی جانب رفتار برقرار رکھا، اور دوپہر کے سیشن میں نمایاں تیزی دیکھی گئی جس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو انٹر ڈے کی بلند ترین سطح 172,248.94 پوائنٹس تک پہنچا دیا، اس کے بعد سیشن کے اختتام کے قریب معمولی استحکام آیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 171,960.64 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,646.79 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کے اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ پی آئی بی کی ییلڈز میں کمی کے بعد مقامی فنڈز کی جانب سے مضبوط خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مزید بتایا ہے کہ لک ، یو بی ایل،ایف ایف سی، اینگرو ہولڈنگ اور بی اے ایچ ایل کے شیئر کی مضبوط کارکردگی نے مثبت رجحان کو سہارا دیا اور مجموعی طور پر کے ایس ای 100انڈیکس میں 1504 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم، ڈی ایچ پی ایل، پی آئی او سی اور ایم ایل سی ایف کے حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث جزوی طور پر یہ اضافہ کم ہوگیا اور مجموعی طور کے ایس ای 100 انڈیکس 176 پوائنٹس نیچے چلا گیا۔
مالی محاذ پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نومبر 2025 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 100 ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔
دریں اثنا پاکستان کے کارگو ٹرانسپورٹرز جن میں کراچی کی بندرگاہوں اور ملک بھر کی فیکٹریوں کے درمیان مال برداری کرنے والے ٹرانسپورٹرز بھی شامل ہیں نے بدھ کو پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جن میں 20 فٹ لمبی 10 پہیوں والی کارگو گاڑیوں کے لیے سڑکوں پر چلنے کے اوقات بڑھا کر روزانہ 19 گھنٹے کرنا بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کے ملے جلے رجحان اور بے یقینی کے باعث مندی کا دباؤ غالب رہا۔ انڈیکس کے تاریخی انٹرا ڈے بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد چند شیئرز میں منافع سمیٹنے کا رجحان سامنے آیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ نیچے کی جانب آگئی۔
بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 133.44 پوائنٹس یا 0.08 فیصد کی کمی سے 170,313.86 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات سے متعلق خدشات کے باعث ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کے دباؤ کے بعد جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کار دنیا بھر میں مرکزی بینکوں کے متوقع اجلاسوں کے پیش نظر محتاط رہے جو مانیٹری پالیسی میں اختلافات کو نمایاں کر سکتے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے شیئرز پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.5 فیصد کم ہوا، جنوبی کوریا کی مارکیٹ 1.3 فیصد گرگئی جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.5 فیصد نیچے آیا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.2 فیصد کمی کا شکار رہا۔
ادھر وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی شیئرز کی قیادت میں فروخت کے بعد نسڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ سرمایہ کار ریکارڈ سطح پر اے آئی اخراجات سے متعلق نئے خدشات کا جائزہ لیتے رہے جبکہ اے آئی سیکٹر کی نمایاں کمپنی اینویڈیا کے شیئرز 3.8 فیصد گرگئے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بدولت یہ ایک پیسہ بڑھ گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.26 پر بند ہوئی، جبکہ بدھ کو یہ 280.27 پر بند ہوئی تھی۔
آل شیئر انڈیکس میں حجم کم ہو کر 950.14 ملین رہ گیا، جو پچھلے اختتام پر 1,068.51 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ حصص کی قدر بڑھ کر 54.07 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 51.80 ارب روپے تھی۔
ٹی پی ایل کا رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ ( آر ای آئی ٹی) فنڈ 1 سب سے زیادہ حجم والا اسٹاک رہا جس کے 75.80 ملین حصص کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد ہیسکول پیٹرول 37.08 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور صدیق سنز ٹن 36.74 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 482 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 217 میں اضافہ ، 228 میں کمی ریکارڈ کی گئی اور 37 کے حصص مستحکم رہے۔