مارکٹس

ٹرمپ کا وینزویلا بلاکیڈ کا اعلان، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی

  • برینٹ خام تیل کی قیمت 92 سینٹ یا 1.54 فیصد بڑھ کر 60.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

ایشیائی مارکیٹ میں جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل بردار جہازوں پر بلاکیڈ کے اعلان کے بعد سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں وینزویلا سے تیل کی بیشتر برآمدات بدستور معطل رہیں۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 98 سینٹ یا 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 56.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 92 سینٹ یا 1.54 فیصد بڑھ کر 60.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز وینزویلا پر عائد پابندیوں کے تحت تمام منظور شدہ آئل ٹینکروں کی آمد و رفت روکنے کا حکم دیا تھا اور صدر نکولس مادورو کی حکومت کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، تاہم اس بلاکیڈ کے نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔

مارکیٹ ذرائع اور کسٹمز ڈیٹا کے مطابق بدھ کے روز بھی وینزویلا کی زیادہ تر برآمدات معطل رہیں، حالانکہ سرکاری آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے نے ایک سائبر حملے کے بعد خام تیل اور ایندھن کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی تھی۔ امریکی حکومت کی سابقہ اجازت کے تحت شیوران کے جہاز بدستور امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔

آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق اگرچہ بلاکیڈ کے نفاذ کی تفصیلات غیر واضح ہیں، تاہم امریکی دباؤ میں اچانک اضافے نے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے باعث پہلے سے دباؤ کا شکار مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی کوسٹ گارڈ نے وینزویلا کے قریب سپر ٹینکر اسکیپر کو ضبط کیا تھا، جو وینزویلا سے تیل کے کارگو کی پہلی امریکی ضبطگی تھی۔

واضح رہے کہ وینزویلا کا خام تیل عالمی سپلائی کا تقریباً ایک فیصد بنتا ہے اور اس کی زیادہ تر برآمدات چین کو جاتی ہیں۔ تاہم مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایشیا میں کمزور طلب اور ذخیرہ شدہ تیل کی زیادتی کے باعث عالمی منڈی پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔

ادھر برطانیہ میں توانائی کمپنی بی پی نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا کی ووڈسائیڈ انرجی کی سربراہ میگ او نیل کو یکم اپریل سے نیا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کمپنی قابلِ تجدید توانائی سے پیچھے ہٹ کر دوبارہ تیل اور گیس کی حکمتِ عملی کی جانب بڑھ رہی ہے۔