وزارتوں کے اختیارات کی اوورلیپنگ گرین ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی میں تاخیر کا باعث ہے، عالمی بینک
- پاکستان میں صنعتی آلودگی کے اخراج کی نگرانی اور معائنہ کا نظام ابتدائی سطح پر موجود ہے، تاہم یہ مکمل اور مؤثر نہیں، رپورٹ
عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی اور صنعتی وزارتوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی اوورلیپنگ پالیسی ہم آہنگی میں رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے باعث کم آلودگی پھیلانے والی گرین ٹیکنالوجیز کی جانب منتقلی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ جاتی کمزوریاں فضائی آلودگی سے نمٹنے کی کوششوں کو غیر مؤثر بنا رہی ہیں۔
عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ جس کا عنوان ’’اے بریتھ آف چینج: انڈو گنگا کے میدانوں اور ہمالیائی دامن میں صاف ہوا کے حل‘‘ ہے، میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صنعتی آلودگی کے اخراج کی نگرانی اور معائنہ کا نظام ابتدائی سطح پر موجود ہے، تاہم یہ مکمل اور مؤثر نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش یورو فائیو اور یورو سکس معیار کے ایندھن کی فراہمی کے لیے ریفائنری اپ گریڈیشن اور ایندھن کی درآمد کا امتزاج اختیار کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش، نیپال، بھارت اور پاکستان میں صاف اینٹوں کے بھٹوں، بوائلرز، فرنسز اور بجلی پیدا کرنے والے نظاموں کے نفاذ کے لیے ایسا ماحول درکار ہے جو مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرے۔ فضائی آلودگی جنوبی ایشیا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے، جو تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا اور بلند بلڈ پریشر جیسے عوامل سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث جنوبی ایشیا میں ہر ایک لاکھ افراد میں 190 اموات ہوتی ہیں، جبکہ عالمی اوسط 92 اموات فی ایک لاکھ ہے۔
فضائی آلودگی سے متاثرہ ممالک میں اوسط عمر میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ انڈو گنگا کے خطے میں فضائی آلودگی کے باعث زندگی کی مدت تقریباً تین سال کم ہو رہی ہے، جبکہ عالمی اوسط 1.8 سال ہے۔ نیپال میں سب سے زیادہ 3.05 سال، بنگلہ دیش میں 2.91 سال اور پاکستان میں 2.83 سال کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں 95 فیصد طلبہ خطرناک حد تک آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں، جس سے تقریباً 22.4 ملین طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ٹرک، بسیں، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور آٹو رکشے آلودگی میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پرانے یورو ٹو اخراجاتی معیارات، زیادہ سلفر والا ایندھن، خستہ حال گاڑیاں اور محدود الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ صاف ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے مربوط پالیسی، مضبوط مالی مراعات اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر فضائی آلودگی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025