بنگلا دیش، حسینہ واجد کیخلاف بغاوت کی قیادت کرنے والے رہنما فائرنگ سے زخمی
- حکومت کا زخمی رہنما کوعلاج کیلئے سنگاپور بھیجنے کا فیصلہ
بنگلادیش کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ 2024 کی بغاوت کے ایک رہنما اور آنے والے انتخابات کے امیدوار کو سنگاپور علاج کے لیے بھیجا جائے گا، جو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق طالب علم رہنما شريف عثمان ہادی کو جمعہ کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں مسجد سے نکلتے ہوئے نقاب پوش حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔
یہ حملہ اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا کہ طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد ملک میں پہلی بار انتخابات کی تاریخ طے کر دی گئی ہے، جس نے شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کو ختم کیا تھا۔
اتوار دیر گئے جاری بیان میں عبوری حکومت نے کہا کہ شریف عثمان ہادی کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا جائے گا اور ایک “ایئر ایمبولینس اور ڈاکٹروں کی ٹیم اسٹینڈ بائی پر موجود ہے۔
شريف عثمان ہادی طالب علم احتجاجی گروپ انقلابی منچا کے سینئر رہنما ہیں اور بھارت کے خلاف کھل کر موقف رکھتے ہیں، جو حسینہ واجد کا پرانا اتحادی رہا ہے، جہاں سابق وزیراعظم خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔
پیر کو ڈھاکہ میں سیکڑوں مظاہرین شریف عثمان ہادی پر حملے کی شدید مذمت کے لیے جمع ہوئے۔
21 سالہ طالبہ غازی سعدیہ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہمارے سیاسی یکجہتی پر حملہ ہے۔
شریف عثمان ہادی کی جماعت انقلابی منچا ریلی میں موجود تھی، جہاں بنگلادیش کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت جماعت اسلامی کے حامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے افراد بھی شریک تھے، جسے دیگر طالب علموں نے تشکیل دیا تھا جنہوں نے پچھلے سال کی بغاوت کی قیادت کی تھی۔
مظاہرین نے اس موقع پر طالب علموں کی قیادت میں جمہوری حقوق کی حفاظت اور سیاسی رہنماؤں کی جان و مال کے تحفظ پر زور دیا۔
یہ واقعہ ملک میں بڑھتی سیاسی کشیدگی اور آئندہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے مسائل پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔