دنیا

چین۔روس مشقوں کے بعد امریکی بمبار اور جاپانی جنگی طیاروں کا طاقت کا مظاہرہ

  • جاپان اور امریکہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں طاقت کے زور پر کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کی کوشش کو روکنے کے لیے مشترکہ کمٹمنٹ برقرار رہے گی، جاپان
شائع اپ ڈیٹ

امریکی جوہری صلاحیت کے حامل بمبار طیاروں نے بدھ کے روز جاپانی جنگی طیاروں کے ساتھ بحرِ جاپان کے اوپر پرواز کی، جسے ٹوکیو نے چین اور روس کی حالیہ فضائی اور بحری مشقوں کے بعد طاقت کے مظاہرے کے طور پر بیان کیا۔ جاپان کی وزارت دفاع نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ جاپان اور امریکہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں طاقت کے زور پر کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کی کوشش کو روکنے کے لیے مشترکہ کمٹمنٹ برقرار رہے گی، اور دونوں ممالک کی افواج مکمل تیاری کی حالت میں ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق امریکی بی۔52 اسٹریٹجک بمبار طیاروں نے جاپان کے تین ایف۔35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور تین ایف۔15 فضائی برتری کے حامل جیٹ طیاروں کے ساتھ مشترکہ پرواز کی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کا ایسا واضح مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب چین نے گزشتہ ہفتے جاپان اور جنوبی کوریا کے اردگرد فوجی مشقیں شروع کی تھیں۔

یہ پیش رفت چین اور روس کے مشترکہ اسٹریٹجک بمبار طیاروں کی مشرقی چین کے سمندر اور مغربی بحرالکاہل میں پرواز کے بعد سامنے آئی، جبکہ الگ سے چین کے طیارہ بردار بحری جہاز کی مشقوں نے جاپان کو جنگی طیارے روانہ کرنے پر مجبور کیا۔ ٹوکیو نے الزام لگایا کہ اس کے طیاروں کو چینی بحری جہازوں کی جانب سے ریڈار بیم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس پر واشنگٹن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے خلاف قرار دیا اور جاپان کے ساتھ اپنی اتحادی وابستگی کو ناقابلِ شکست قرار دیا۔

جنوبی کوریا نے بھی بتایا کہ جب چینی اور روسی طیارے اس کی فضائی دفاعی شناختی زون میں داخل ہوئے تو اس نے فوری طور پر اپنے طیارے بھیجے۔ یہ زون ملک کی فضائی حدود سے باہر واقع ہے اور ابتدائی دفاعی انتباہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے تائیوان پر ممکنہ چینی حملے کی صورت میں جاپان کے ممکنہ ردعمل کا ذکر کیا تھا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا، جبکہ یہ جزیرہ جاپان کے سمندری راستوں کے قریب واقع ہے جن پر ٹوکیو اپنی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انحصار کرتا ہے۔