وینیزویلا کے ساحل پر امریکی کارروائی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ کے سودے 27 سینٹ بڑھ کر 62.48 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ امریکہ نے وینیزویلا کے ساحل کے قریب ایک پابندی کے شکار آئل ٹینکر کو ضبط کر لیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
برینٹ کروڈ کے سودے 27 سینٹ بڑھ کر 62.48 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(ڈبلیو ٹی آئی) 33 سینٹ اضافے کے ساتھ 58.79 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائیکامور نے کہا کہ امریکی کارروائی کے باعث ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کو سہارا ملا ہے، جبکہ یوکرین کی جانب سے روس کے شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال سال کے اختتام تک تیل کی قیمتوں کو 55 ڈالر کے اہم سطح سے اوپر برقرار رکھ سکتی ہے، جب تک یوکرین میں کوئی غیر متوقع امن معاہدہ سامنے نہ آ جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ وینیزویلا کے ساحل پر ایک بڑے آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا گیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ کے مطابق، اس کا تعلق ٹینکر اسکیپر سے ہونے کا امکان ہے۔
عالمی تجارت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایشیائی خریدار وینیزویلا کے خام تیل پر بڑے رعایتی نرخ طلب کر رہے ہیں، کیونکہ روس اور ایران کے پابندی کے شکار تیل کی آمد میں اضافے اور کیریبین میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث وینیزویلا سے لوڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ادھر یوکرینی سمندری ڈرونز نے بحیرہ اسود میں روسی تیل کی تجارت میں استعمال ہونے والے ایک ٹینکر کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ یوکرین کے امن مذاکرات کی پیش رفت پر مرکوز ہے، جہاں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے امریکی صدر کے ساتھ ایک اہم رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی مالیاتی پالیسی میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں گہری تقسیم کے باوجود فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی کی، جو قرض گیری کی لاگت کم کر کے معاشی سرگرمی اور تیل کی طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔