آسٹریلیا کا اوکس نیوکلیئر سب میرین ٹائم لائن کے چیلنجز سے نمٹنے کا عزم
- امریکی پینٹاگون کی جانب سے اوکس پر جائزے میں ایسے پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے معاہدے کو مضبوط بنیادوں پر لایا جا سکتا ہے
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا ہے کہ ملک اپنی دفاعی حکمت عملی پر بہت خوداحتسابی کا مظاہرہ کر رہا ہے تاکہ اوکس نیوکلیئر سب میرین پروگرام کے لیے درپیش چیلنجز، بشمول ورک فورس کی تربیت، کو حل کیا جا سکے۔ یہ بیان انہوں نے واشنگٹن میں اوکس کے دفاعی وزراء کے اجلاس سے قبل دیا۔
امریکی پینٹاگون کی جانب سے اوکس پر جائزے میں ایسے پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے معاہدے کو مضبوط بنیادوں پر لایا جا سکتا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس جائزے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔ 2021 میں اعلان ہونے والا اوکس منصوبہ آسٹریلیا کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی پہل ہے، جس کے تحت 2027 سے امریکی کمانڈ والے ورجینیا سب میرینز آسٹریلیا میں تعینات ہوں گی، 2030 کے بعد چند ورجینیا سب میرینز آسٹریلیا کو فروخت کی جائیں گی، اور برطانیہ و آسٹریلیا مشترکہ طور پر نیوکلیئر پاورڈ سب میرین کی نئی کلاس تیار کریں گے۔
مارلس نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ بدھ کو واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرا یہ بات کریں گے کہ پروگرام کو کتنی جلدی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جائزے میں سب سے بڑے موضوعات میں یہ سوالات شامل تھے کہ آیا آسٹریلیا نیوکلیئر سب میرین بیس بنانے میں مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور کیا امریکہ اپنی ضرورت کے مطابق ورجینیا سب میرینز تیار کر سکتا ہے۔
رچرڈ مارلس نے کہا کہ پینٹاگون کے جائزے میں یہ سفارشات دی گئی ہیں کہ کس طرح اوکس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا یقین ظاہر کیا کہ آسٹریلیا 2027 کے آخر تک پرتھ میں واقع اپنی انڈین اوشن نیول بیس پر چار امریکی ورجینیا سب میرینز کی میزبانی کا ہدف پورا کرے گا، تاہم اس کے لیے زبردست محنت درکار ہے۔
انہوں نے ورک فورس کی تربیت، سپلائی چینز کی تعمیر، اور امریکی سب میرین کی پیداوار کی رفتار بڑھانے جیسے دیگر چیلنجز کی نشاندہی بھی کی۔رچرڈ مارلس نے کہا کہ ہمیں ہر مرحلے پر بہت خودتنقیدی سے اپنے منصوبوں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ سب کچھ منصوبے کے مطابق مکمل ہو سکے۔