وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا نوٹس لے لیا، اہم اصلاحات کا اعلان
- منصوبہ بندی سے لے کر تکمیل تک تمام مراحل میں اصلاحات اور شفافیت لانے کے لیے جامع حکمت عملی فوری طور پر تیار کی جائے، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ترقیاتی منصوبوں میں طویل عرصے سے جاری تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ایک بڑے اصلاحاتی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبہ بندی سے لے کر تکمیل تک تمام مراحل میں اصلاحات اور شفافیت لانے کے لیے جامع حکمت عملی فوری طور پر تیار کی جائے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ وہ خود ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی کریں گے جو ان اصلاحات کی نگرانی کرے گی اور وفاقی و صوبائی سطح کے اسٹیک ہولڈرز اس عمل میں شامل ہوں گے۔
اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اہم قومی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عالمی شراکت داروں، خصوصاً ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ترقیاتی فریم ورک میں اصلاحات کے سلسلے میں پاکستان کی مسلسل مدد کی ہے۔
اجلاس میں سرکاری حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف نظامی رکاوٹیں ترقیاتی منصوبوں کے سست روی کا باعث بن رہی ہیں۔ سب سے نمایاں مسئلہ خریداری (پراکورمنٹ) کے عمل میں تاخیر ہے جو منصوبوں کی تکمیل کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔ حکام نے تجویز دی کہ ای-پراکورمنٹ سسٹم، جدید ڈیجیٹل طریقہ کار اور پروجیکٹ ریڈینس سہولیات کے نفاذ سے نہ صرف خریداری کا عمل تیز ہوگا بلکہ منصوبوں کی تکمیل بھی وقت پر ممکن ہوگی۔
بریفنگ میں یہ نکتہ بھی اجاگر کیا گیا کہ انسانی وسائل کو منصوبوں کے اہداف سے ہم آہنگ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ عملے کی تعیناتی اور انتظامی امور میں غیر مؤثر حکمت عملی بھی تاخیر کا سبب بن رہی ہے، جسے دور کرنا ناگزیر ہے تاکہ پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے تحت مقررہ اہداف بہتر طور پر حاصل کیے جا سکیں۔
وزیر اعظم نے ان چیلنجز کے پیشِ نظر چار خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام کی ہدایت کی۔ پہلا گروپ منصوبوں کی منظوری کے مراحل اور تیاری کے عمل میں اصلاحات پر کام کرے گا۔ دوسرا گروپ خریداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر مامور ہوگا۔ تیسرا گروپ زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کام کرے گا، جبکہ چوتھا گروپ انسانی وسائل کی بہتری، عملے کی موزوں تعیناتی اور انتظامی اصلاحات کا جائزہ لے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا کے علاوہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے سے متعلق اپنی سفارشات پیش کیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025