کاروبار اور معیشت

پی ایس ڈی پی کے تحت ماحولیاتی اور آفات سے متعلق اخراجات، بجٹ دستاویزات مبہم

  • بجٹ 2025-26 کے دستاویزات میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ ماحولیاتی اور آفات سے متعلق اخراجات کس طرح مرتب، ماپے اور میں شامل کیے گئے ہیں
شائع December 5, 2025 اپ ڈیٹ December 5, 2025 09:45am

حکومت کی جانب سے ماحولیاتی لچک اور آفات کی تیاری کو اولین ترجیح دینے کے دعووں کے باوجود، بجٹ 2025-26 کے دستاویزات میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ ماحولیاتی اور آفات سے متعلق اخراجات کس طرح مرتب، ماپے اور وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کیے گئے ہیں۔

بجٹ بریف 2025-26 کی ایک اہم جدول ”جینڈر، ماحولیاتی اور آفات“ میں صنفی بنیاد پر اقدامات، ماحولیاتی موافقت اور کمی، اور آفات سے متعلق اخراجات کے لیے مختص فنڈز کی تفصیل دی گئی ہے۔ تاہم، یہ فریم ورک پی ایس ڈی پی منصوبوں سے واضح تعلق نہیں رکھتا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اعداد کیسے تیار کیے گئے اور پیش رفت کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔

سبسڈیز میں گرین جزو کی تفصیلات ایک جدول میں دی گئی ہیں جس میں مجموعی طور پر 587.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں: توانائی کے لیے 529 ارب روپے، خوراک 20 ارب، صنعتیں 9 ارب، ٹرانسپورٹ 7.3 ارب اور زراعت 22 ارب روپے۔ بزنس ریکارڈر نے بجٹ دستاویز کی وضاحت کے لیے وزارت خزانہ کے ترجمان سے رابطہ کیا، لیکن رپورٹ کے تیاری تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

حکومت نے ماحولیاتی اور آفات کے زمرے میں 978 ارب روپے مختص کیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اعداد حقیقی پی ایس ڈی پی منصوبوں سے کیسے جڑے ہیں۔ بجٹ دستاویز میں یہ بھی بیان نہیں کہ یہ اعداد کیسے حاصل کیے گئے اور یہ پی ایس ڈی پی میں کہاں موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق ماحولیاتی کمی سب سے زیادہ ہے، جو مالی سال 2024–25 میں 212.8 ارب روپے سے بڑھ کر 2025–26 میں 603 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ماحولیاتی موافقت کے لیے 85.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ معاون شعبوں کے لیے 28.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تاہم، بجٹ دستاویزات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اعداد کس پی ایس ڈی پی منصوبے سے متعلق ہیں۔ کوئی ضمیمہ، فنکشنل کوڈ یا کراس ریفرنس موجود نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ یہ مختصات وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی، آبی وسائلِ ، توانائی، منصوبہ بندی یا دیگر شعبوں میں شامل ہیں۔

دستاویز میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کس معیار کے تحت کسی منصوبے کو موافقت یا کمی کے زمرے میں شامل کیا گیا، کیا بین الاقوامی معیار استعمال ہوئے، اور وزارتوں میں کام کو دہرانے کو کیسے روکا گیا۔ اس معیاری فریم ورک کی کمی کے باعث یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ عام انفراسٹرکچر کے اخراجات کو ماحولیاتی سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا جائے۔

آفات کے زمرے میں بجٹ مختصات درج ذیل ہیں: تیاری 33.16 ارب روپے، ردعمل 15.87 ارب اور بحالی و دوبارہ تعمیر 1.14 ارب روپے۔ لیکن یہ اعداد بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے پی ایس ڈی پی منصوبوں یا ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈویژن میں شامل نہیں ہیں۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بھی کوئی واضح مارکر یا منصوبہ کوڈ موجود نہیں جو ان مختصات سے مطابقت رکھتا ہو، جس سے یہ واضح نہیں کہ کون سی وزارتیں یہ فنڈز استعمال کر رہی ہیں۔

صنف کے زمرے میں تعلیم کے معیار، صحت و بہبود، حکمرانی کے نظام، اقتصادی خودمختاری، حفاظت اور سیاسی شراکت کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، لیکن یہ بھی قابل شناخت پی ایس ڈی پی منصوبوں سے منسلک نہیں ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025