وزیر خزانہ این ایف سی پر اتفاق رائے کیلئے پر امید
- پاکستان کو اپنی اقتصادی صلاحیت تک پہنچنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ کے مسائل پر بات چیت کرنی ہوگی، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیشنل فنانس کمیشن (این یف سی) ایوارڈ پر اتفاق رائے قائم کرنے کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کے ساتھ انتہائی تعمیری مذاکرات کے منتظر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم آگے بڑھیں گے اور مجھے یقین ہے کہ جس طرح ہم نے گزشتہ سال وفاق اور صوبوں کے ساتھ مشاورت سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط کیے تھے، اسی طرح ہم اس معاملے کو مکمل اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
قبل ازیں، بزنس ریکارڈر نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وفاقی حکومت نے طویل انتظار کے بعد نیشنل فنانس کمیشن کا اجلاس 4 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس پہلے کئی بار ملتوی ہو چکا تھا۔
گیارہویں نیشنل فنانس کمیشن کو صدر مملکت نے 22 اگست کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا تھا۔ تاہم اس کا پہلا اجلاس جو 28 اگست کو ہونا تھا، سندھ حکومت کی درخواست پر ملتوی کر دیا گیا تھا جس نے صوبے میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ہنگامی صورتحال کا حوالہ دیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، سندھ کی رسمی درخواست موصول ہونے کے بعد این ایف سی سیکریٹریٹ نے اجلاس ملتوی کر دیا تھا۔
محمد اورنگزیب اسلام آباد میں اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جہاں متوقع ہے کہ اہم صوبائی اور وفاقی اسٹیک ہولڈرز نئے این ایف سی ایوارڈ کے نازک مسئلے پر بات کریں گے۔ یہ ایوارڈ ایک اہم میکانزم ہے جو قومی مالی وسائل کی تقسیم کا تعین کرتا ہے اور پاکستان کے مالیاتی وفاقیت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دریں اثنا، وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو اپنی اقتصادی صلاحیت تک پہنچنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ کے مسائل پر بات چیت کرنی ہوگی۔
انہوں نے دہرایا کہ اس سال کے سیلاب ہمارے جی ڈی پی کے ترقیاتی تخمینے سے تقریباً 0.5 فیصد کم کر دیں گے۔ اگر ہم آبادی کے اضافے کو کنٹرول نہ کریں تو یہ بھی ترقی کی رفتار سست کرے گا۔
نئی معیشت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اس لیے توجہ سرکاری نوکریوں پر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے بہت سے نوجوان فری لانس ہیں، آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی معیشت میں کام کر رہے ہیں۔ ہمیں انہیں اے آئی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، بلاک چین، ویب 3.0 اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ اپ اسکل اور ری اسکل کرنا ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تازہ ترین تجزیے کے مطابق پاکستان اب کرپٹو میں شرکت کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے، جو پہلے 10ویں نمبر پر تھا، اور یہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔