کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس ایک لاکھ 68 ہزار سے زائد کی سطح پر بند

  • بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں پیر کو تقریباً 1,400 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
شائع December 1, 2025 اپ ڈیٹ December 1, 2025 07:47pm

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 68 ہزار سے اوپر کی سطح پر بند ہوا۔

مارکیٹ میں ابتدائی مندی کے بعد تیزی کا رجحان واپس آگیا جس کی وجہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حجم میں اضافہ ہے۔

کاروبار کے اختتا پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,384.50 پوائنٹس یا 0.83 فیصد اضافے سے 168,062.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”مارکیٹ کا رجحان مثبت رہا، جسے ادارہ جاتی خریداری نے سہارا فراہم کیا، جیسا کہ گزشتہ روز این سی سی پی ایل [نیشنل کلیرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ] کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے۔“

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کاروبار کی تیزی میں اہم کردار ادا کرنے والے بڑے انڈیکس ہیوی ویٹس میں ماری ،لک، اوجی ڈی سی حبکو اور ایم سی بی شامل ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 622 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق پاکستان میں نومبر 2025 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 6.1 فیصد رہی، جو وزارتِ خزانہ کے اندازے 5-6 فیصد سے زیادہ ہے۔

گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,574.78 پوائنٹس یا 2.8 فیصد اضافے سے 166,677.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

یہ ریلی وسیع پیمانے پر رہی جسے فرٹیلائزر، بینکس، ٹیکنالوجی و کمیونی کیشن، سیمنٹ اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن سمیت بڑے شعبوں میں ہونے والے اضافے نے سہارا دیا، جو مارکیٹ کے بہتر ہوتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس نے 2025 کے آخری ماہ کے آغاز پر پیر کو محتاط مگر مستحکم آغاز کیا، کیونکہ امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات نے اقتصادی اعداد و شمار سے قبل سرمایہ کاروں کے رسک سینٹیمنٹ کو سہارا دیا۔

دوسری جانب سرمایہ کار قریبی مدت میں شرحِ سود میں اضافے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے ین کی قدر میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔

کرنسی مارکیٹ میں توجہ کا مرکز جاپانی ین رہا، جو مضبوط ہو کر فی امریکی ڈالر 155.64 تک پہنچ گیا۔

اویڈا نے کاروباری رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ مرکزی بینک اپنی آئندہ دسمبر کی پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں اضافے کے فوائد اور نقصانات پر غور کرے گا۔

اسٹاک مارکیٹ میں جاپان کے علاوہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 703.19 پر مستحکم رہا۔ یہ انڈیکس اب تک رواں سال 23.5 فیصد بڑھ چکا ہے اور 2017 کے بعد اپنی بہترین سالانہ کارکردگی کی جانب گامزن ہے۔ جاپان کا نکئی انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں 1.3 فیصد گر گیا۔

امریکی اسٹاک فیوچرز ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران منفی رہے، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1 فیصد سے زیادہ بڑھا، جس نے مجموعی طور پر ایشیائی مارکیٹس کو سہارا دیا۔

دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.51 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔

آل شیئر انڈیکس پر حجم 735.52 ملین تک بڑھ گیا، جو پچھلے اختتام 592.75 ملین تھا۔ حصص کی قدر 46.19 ارب روپے تک بڑھ گئی، جو پچھلے سیشن میں 41.97 ارب روپے تھی۔

ایف نیٹ ایکویٹیز حجم میں سر فہرست رہا جس کے 70.03 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بیکو اسٹیل لمیٹڈ کے 42.56 ملین حصص اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 41.72 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

پیر کو 484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 278 میں اضافہ، 162 میں کمی اور 44 حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔