مارکٹس

پاکستانی لاجسٹکس کے 36 ارب ڈالر خسارے کے خاتمے کیلئے ڈیجیٹل اصلاحات ناگزیر ہیں ، سی اے آرای سی فورم

  • پاکستان نے فورم میں دو اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے
شائع November 28, 2025 اپ ڈیٹ November 28, 2025 01:45pm

پاکستان ہر سال اندازاً 36 ارب ڈالر اس لیے کھو رہا ہے کہ اس کی بیشتر لاجسٹکس اور سپلائی چین اب تک پرانے، آف لائن نظاموں پر چل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نقصان صرف تیز ڈیجیٹلائزیشن اور مضبوط پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ہی کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ انکشاف بشکیک میں سی اے آر ای سی بزنس فورم کے دوران ہوا، جہاں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سمیت عالمی ترقیاتی اداروں نے سرحد پار ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے لیے اپنی وابستگی دوبارہ ظاہر کی۔

فورم میں یہ بھی بتایا گیا کہ سی اے آر ای سی ،اے ڈی بی پروگرام کے تحت 2030 تک 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا ،تاکہ خطے میں ایک جدید اور مربوط ڈیجیٹل ماحول قائم ہو سکے۔

حالیہ دنوں میں یہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے تجارتی اعدادوشمار میں 11 ارب ڈالر کی بےضابطگی کی نشاندہی کی اور شفاف، ڈیجیٹل رپورٹنگ کا مطالبہ کیا۔

گلیکسی فائی کے بانی اور سی ای او آصف پرویز نے فورم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات ملک کو پورے سی اے آر ای سی کوریڈور کا ڈیجیٹل ٹریڈ مرکز بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق جب حل موجود ہیں تو پاکستان مزید 36 ارب ڈالر کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔

سی اے آر ای سی انسٹیٹیوٹ کی تحقیقات بھی یہی بتاتی ہیں کہ خطے میں اصل رکاوٹ انفرااسٹرکچر نہیں بلکہ متحدہ ملٹی موڈل ای-لاجسٹکس سسٹم کی کمی ہے۔ اگرچہ پاکستان سنگل ونڈو نے سرکاری عمل کو ڈیجیٹل کر دیا ہے، مگر نجی شعبے کی تقریباً 70 فیصد لاجسٹکس اب بھی مینوئل چل رہی ہے، جو پاکستان کو عالمی سپلائی چین میں کمزور بناتی ہے۔

فورم کے دوران پاکستان نے دو اہم ایم او یوز سی اے آر ای سی انوویشن اینڈ وینچر کیٹالسٹ فیسلٹی اور سی اے آر ای سی ڈیجیٹل کوریڈور انیشیٹو پر دستخط کیے، جن کا مقصد ڈیجیٹل تعاون کو گہرا کرنا ہے۔

گلیکسی فائی نے اے ڈی بی اور پاکستانی حکام سے مشاورت کے بعد اپنی رجسٹریشن بھی مکمل کر لی ہے اور اے آئی پر مبنی مستقبل تیار نظام، شراکت داریوں اور پی ایس ڈبلیو انضمام کے ذریعے ایک قومی ای لاجسٹکس سسٹم کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

آصف پرویز کے مطابق یہ موقع پاکستان کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور شراکت داریاں سب موجود ہیں، ضرورت صرف حکومتی عزم کی ہے ،تاکہ ملک خطے میں مسابقتی قوت بن سکے۔