کاروبار اور معیشت

ایف پی سی سی آئی نے کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چشم کشا قرار دیدی

کرپشن سالانہ جی ڈی پی کا 6.5 فیصد تک کھا جاتی ہے ، آئی ایم ایف کا یہ انکشاف انتہائی تشویشناک ہے ، میاں زاہد
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی حالیہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ ہمارے حالات کی واضح عکاسی ہے، جسے پالیسی ساز مزید نظر انداز نہیں کرسکتے۔

کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ہمارے بگڑے ہوئے گورننس ڈھانچے کے لیے ایک چشم کشا پیغام ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کا یہ انکشاف کہ کرپشن پاکستان کی سالانہ جی ڈی پی کا 5 سے 6.5 فیصد تک کھا جاتی ہے، انتہائی تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کی معاشی ترقی 3 فیصد کے حصول میں بھی مشکل سے آگے بڑھتی ہے، وہاں 6 فیصد سے زائد وسائل کا کرپشن کی نذر ہو جانا خوش حالی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

میاں زاہد حسین نے زور دیا کہ کاروباری طبقہ طویل عرصے سے غیر شفاف ٹیکس نظام اور ایسے ریگولیٹری بوجھ کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے جو طاقتور طبقے کو فائدہ اور دیانتداری سے کاروبار کرنے والوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ نے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایلیٹ کیپچر کا جس طرح ذکر کیا گیا ہے وہ بتاتا ہے کہ پالیسی سازی کس طرح مخصوص طبقات کے ہاتھوں یرغمال ہے، اسی لیے ٹیکس نیٹ آج بھی محدود ہے۔ ایف بی آر اور کسٹمز کا غیر شفاف اور صوابدیدی انداز ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو مزید کم کرتا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کو روکتا ہے۔