مارکٹس

روس۔یوکرین ممکنہ امن معاہدہ، خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

  • برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 71 سینٹ یا 1.12 فیصد کمی کے بعد 62.67 ڈالر فی بیرل تک آ گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز مسلسل تیسرے سیشن بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی کوششیں اور امریکی شرح سود میں کمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی منڈی میں مزید تیل کی رسد آ سکتی ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 71 سینٹ یا 1.12 فیصد کمی کے بعد 62.67 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت بھی 71 سینٹ یا 1.20 فیصد کی کمی سے 58.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق اس ہفتے کے دوران دونوں بینچ مارک قیمتوں میں مجموعی طور پر 2 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے، جس کی وجہ مارکیٹ میں تیل کی زائد فراہمی کا خدشہ ہے۔

مارکیٹ کا رجحان اس ہفتے منفی رہا کیونکہ واشنگٹن نے روس اور یوکرین کے درمیان تین سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن منصوبے پر زور دیا۔ اگرچہ ابھی تک یوکرین کی جانب سے اس منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ ممکنہ معاہدہ جنگ سے جڑی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کو کم کر سکتا ہے۔

آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق جنگ کے خاتمے کے امکانات، چاہے کمزور ہی کیوں نہ ہوں، تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی خطرے کے عنصر کو کم کر رہے ہیں، جس کے باعث قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔

دوسری جانب امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے کیونکہ مضبوط ڈالر کی صورت میں دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ فیڈرل ریزرو آئندہ ماہ شرح سود میں کمی کا امکان کم ہے، جس کے باعث ڈالر اس ہفتے ایک ماہ سے زائد عرصے کی بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے اور یہی صورتحال تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا باعث بن رہی ہے۔