تانبا اور سونا برآمدی کارگو، ای سی سی نے پورٹ قاسم اور انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے درمیان ثالثی کا معاملہ حل کردیا
- پورٹ قاسم اور انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے دو قسم کی ثالثی کی منظوری دی گئی ہے
وزارت بحری امور کے ذرائع نے بزنس کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پورٹ قاسم اتھارٹی(پی کیو اے) اور پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل(پی آئی بی ٹی) کے درمیان تانبے، سونے اور دیگر معدنیات پر مشتمل برآمدی کارگو سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے دو قسم کی ثالثی کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا یہ طریقۂ کار دونوں اداروں کے درمیان جاری مذاکرات کے ایک اہم مرحلے کو آگے بڑھاتا ہے۔
پورٹ قاسم اتھارٹی، جو پورٹ قاسم ایکٹ 1973 کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے، سرکاری خریداری کے قوانین کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ ماضی میں کوئلہ، کلنکر اور سیمنٹ کی ہینڈلنگ کے لیے پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کو دی گئی رعایت بھی مسابقتی بولی کے تحت دی گئی تھی، جس کے باعث یہ منصوبہ پبلک پروکیورمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ بعد ازاں جب پی آئی بی ٹی میں تانبے، سونے اور دیگر معدنی و دھاتی اجناس کی ہینڈلنگ شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی تو اس کے لیے بھی مسابقتی بولی کی ضرورت تھی، کیونکہ یہ ایک تجارتی معاہدہ تھا جس میں حکومت کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا لازم تھا۔
ریکو ڈک مائننگ پراجیکٹ، جو دنیا کے سب سے بڑے غیرترقی یافتہ کاپر۔گولڈ منصوبوں میں سے ایک ہے، آئندہ برسوں میں ملک میں بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چونکہ گوادر بندرگاہ پر مطلوبہ سہولیات فی الحال دستیاب نہیں، اس لیے ریکو ڈک مائننگ کمپنی نے قلیل مدت میں اپنی برآمدات پورٹ قاسم کے پی آئی بی ٹی کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی ہدایت پر پی کیو اے نے پبلک پروکیورمنٹ قوانین سے استثنا مانگا، تاکہ موجودہ امپلیمنٹیشن ایگریمنٹ میں ترمیم کرتے ہوئے نئی اجناس کو بغیر مسابقتی بولی کے شامل کیا جا سکے۔ کابینہ نے مئی 2025 میں استثنا کی منظوری دے دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ شفافیت، احتساب اور حکومتی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اس کے بعد پی کیو اے اور پی آئی بی ٹی کے درمیان اضافی ٹرمینل سہولیات کی تعمیر اور کارگو ہینڈلنگ سے متعلق فنی اور مالی امور پر مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں ایک سپلیمنٹل امپلیمنٹیشن ایگریمنٹ اور ایک سائیڈ لیٹر کا مسودہ تیار کیا گیا۔ سائیڈ لیٹر کے ذریعے پی آئی بی ٹی کو یہ اجازت بھی دی گئی کہ وہ اضافی سہولیات کا سب لیز ریکو ڈک مائننگ کمپنی کو دے سکے اور کسی بھی ممکنہ ڈیفالٹ کی صورت میں کمپنی کو متعلقہ حقوق حاصل ہوں۔
تاہم دونوں فریقوں کے درمیان واحد اختلافی نکتہ تنازع کے حل کے طریقہ کار کا تھا۔ پی کیو اے کا مؤقف یہ تھا کہ ثالثی پاکستانی قوانین کے تحت کراچی میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اصل معاہدے میں درج ہے، جبکہ پی آئی بی ٹی اور ریکو ڈک مائننگ کمپنی لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن سے رجوع کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔ یہ معاملہ وزارت قانون و انصاف، اٹارنی جنرل پاکستان اور کابینہ ڈویژن کے متعدد مراحل سے گزرا۔
اٹارنی جنرل کی حتمی رائے کی روشنی میں پی کیو اے نے مسودے میں تبدیلیاں کیں اور وزارت بحری امور نے 18 نومبر 2025 کو ای سی سی کو نظرثانی شدہ معاہدہ پیش کیا۔ ای سی سی نے دونوں مسودوں، یعنی سپلیمنٹل ایگریمنٹ اور سائیڈ لیٹر، کی منظوری دے دی، جس کے بعد اب ریکو ڈک منصوبے سے متعلق برآمدی عمل میں درکار قانونی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور ٹرمینل پر اضافی سہولیات کی تکمیل کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025