کاروبار اور معیشت

اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 112 ملین ڈالر ریکارڈ

  • یہ خسارہ ستمبر 2025 میں 83 ملین ڈالر، اکتوبر 2024 میں 296 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا ہے
شائع November 17, 2025 اپ ڈیٹ November 17, 2025 12:45pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 112 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

یہ خسارہ ستمبر 2025 میں 83 ملین ڈالر اور اکتوبر 2024 میں 296 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ خسارہ درآمدی بل میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث سامنے آیا ہے ۔

اکتوبر 2025 کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 3.57 بلین ڈالر رہیں جو پچھلے سال اسی ماہ کے 3.71 بلین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد کم ہیں۔

اکتوبر 2025 میں مجموعی درآمدات 6.32 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو پچھلے سال کے اسی ماہ کے 5.58 بلین ڈالر کے مقابلے میں سالانہ 13 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔

اکتوبر 2025 کے دوران ترسیلات زر 3.42 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو پچھلے سال اسی ماہ کے 3.05 بلین ڈالر کے مقابلے میں سالانہ 12 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 733 ملین ڈالر رہا جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 206 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 256 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان کے بیرونی زرمبادلہ ذخائر (سی آر آر / ایس سی آر آر کے علاوہ) 14.50 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو سالانہ 29 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود مضبوط بیرونی بفرز کی نشاندہی کرتا ہے۔