مارکٹس

روسی ایکسپورٹ ہب پر آپریشن بحال، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

  • برینٹ کروڈ فیوچرز 58 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 63.81 ڈالر فی بیرل تک آ گیا
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی منڈی میں پیر کو ابتدائی تجارت کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے کے تمام اضافے کا اثر ختم ہوگیا۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب بلیک سی میں یوکرینی حملے کے بعد دو روزہ تعطل کے بعد روس کے اہم برآمدی مرکز نوورسیسک میں آئل لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی گئی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 58 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 63.81 ڈالر فی بیرل تک آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز بھی 59 سینٹ یا 1 فیصد کمی کے بعد 59.50 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے دونوں بینچ مارکس میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا، کیونکہ نوورسیسک اور قریبی کیسپیئن پائپ لائن کنسورشیم ٹرمینل پر برآمدات معطل ہونے سے، عالمی سپلائی کے تقریباً 2 فیصد کے برابر فراہمی متاثر ہوئی تھی۔ تاہم اتوار کے روز نوورسیسک پورٹ پر تیل کی روانگی بحال ہو گئی، جس کی تصدیق صنعتی ذرائع اور ایل ایس ای جی کے ڈیٹا سے ہوئی۔ اس کے باوجود یوکرین کی جانب سے روسی آئل انفرااسٹرکچر پر بڑھتے حملوں کے باعث آئندہ ممکنہ خلل کے امکانات برقرار ہیں۔

یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اس نے روس کے ریازان آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ اتوار کو جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا کہ سمارا ریجن میں نووکوبیشیفسک ریفائنری پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کار توشیتاکا تازاوا کے مطابق سرمایہ کار یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روسی آئل ایکسپورٹس پر طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے، جبکہ جمعے کی تیزی کے بعد کچھ سرمایہ کار منافع سمیٹ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اوپیک پلس کی اضافی پیداوار کے باعث تیل کی سپلائی زیادہ ہونے کا تاثر برقرار ہے اور ڈبلیو ٹی آئی کے 60 ڈالر کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔

سرمایہ کار مغربی پابندیوں کے اثرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا نے 21 نومبر کے بعد روسی کمپنیوں لوک آئل اور روزنیفٹ سے کاروباری معاہدوں پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ماسکو کو یوکرین پر مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ریپبلکنز ایسی قانون سازی پر کام کر رہے ہیں جو روس سے کاروبار کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرے گی، اور ایران کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ادھر اوپیک پلس نے دسمبر کے لیے یومیہ پیداوار میں 137 ہزار بیرل کے اضافے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں اضافے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔