ٹی ٹی پی نے اسلام آباد خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی
- حملہ آور نے پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، وزیر داخلہ
پاکستانی طالبان نے اسلام آباد میں خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی، جس میں کم از کم 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے۔
یہ برسوں میں شہر پر ہونے والا پہلا حملہ تھا جس نے عام لوگوں کو خوف و ہراس میں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ دھماکے کے بعد ضلع عدالت کی عمارتوں کے باہر شیشے بکھرے اور متعدد گاڑیاں جل گئی ہیں۔
کالعدم پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ججوں، وکلاء اور دیگر عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے پاکستان کے غیر اسلامی قوانین کے تحت فیصلے کیے۔ شدت پسند گروہ نے مزید دھمکی دی ہے کہ ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ تک ایسے حملے جاری رہیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق حملہ آور نے پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ کیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے۔
واقعے کے مقام پر موجود وکیل محمد شہزاد بٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ شدید تھا اور لوگ خوفزدہ ہو کر اندر بھاگنے لگے۔ انہوں نے کم از کم پانچ لاشیں مرکزی گیٹ کے سامنے پڑی دیکھیں۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ پیرا ملٹری دستے حملے کے مقام کو گھیرے میں لے رہے تھے۔
وکیل رستم ملک نے بتایا کہ وہ کمپلیکس میں داخل ہو رہے تھے کہ دروازے پر زور دار دھماکہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مکمل افراتفری تھی اور وکلا و لوگ کمپلیکس کے اندر بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے دروازے پر دو لاشیں اور جلتی ہوئی کئی گاڑیاں دیکھیں۔
یہ حملہ بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیر کے روز ہونے والے ایک گاڑی کے دھماکے کے بعد ہوا، جس میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں پر الزام عائد کیا ہے جو زیادہ تر حملے سکیورٹی فورسز پر کرتے ہیں۔
اسلام آباد کو حالیہ برسوں میں نسبتا محفوظ رکھا گیا تھا جبکہ آخری خودکش حملہ دسمبر 2022 میں ہوا تھا۔ تاہم ملک میں حملوں کی دوبارہ بڑھوتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جسے حکام افغان علاقوں میں شدت پسند گروپوں کے پناہ لینے سے منسلک کرتے ہیں۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب پاکستانی سکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا کے ضلع وانا کے ایک اسکول میں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی تھیں، جو افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ کل رات وانا میں بھی ایک حملہ ہوا، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ حملے میں شامل حملہ آور افغان تھا اور افغانستان اس میں براہِ راست ملوث ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جو برسوں میں سرحدی علاقوں میں سب سے بڑی لڑائی تھیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق دونوں جانب سے 70 سے زائد افراد مارے گئے جن میں تقریباً 50 افغان شہری شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن پچھلے ہفتے ختم ہونے والے متعدد مذاکرات کے دوران اس کی تفصیلات حتمی شکل دینے میں ناکام رہے۔ دونوں فریق نے اس تعطل کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد خودکش حملے کو انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا بے سود ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025