پابندیوں اور سپلائی کے اثرات ، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- برینٹ کروڈ فیوچرز 67 سینٹ یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 64.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا
تیل کی قیمتیں منگل کو بڑھ گئیں کیونکہ امریکی پابندیوں کے تازہ ترین اثرات روسی تیل پر محسوس کیے گئے، اگرچہ سپلائی کی زیادتی کے خدشات نے اضافے کو محدود رکھا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 67 سینٹ یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 64.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 65 سینٹ یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 60.78 ڈالر فی بیرل پر رہا۔
سرمایہ کار امریکی پابندیوں کے اثرات اور ان کے کروڈ آئل اور ریفائنڈ فیول مارکیٹس پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ذرائع نے رائٹر کو بتایا کہ لوک آئل نے عراق کے ایک تیل کے میدان میں فورس میجر کا اعلان کیا، جو گزشتہ ماہ عائد کی گئی پابندیوں کے اثرات میں سب سے بڑا واقعہ ہے۔
پی وی ایم کے تجزیہ کار تامس وارگا کے مطابق پابندیوں کے باعث محدود ایندھن کی برآمدات تیل کی قیمتوں کو بلند رکھنے میں مدد دے رہی ہیں، جبکہ مارکیٹ میں خام تیل کی اضافی مقدار موجود ہے۔
وارگا نے کہا امریکی پابندیاں بڑے روسی تیل کے پیدا کنندگان اور برآمد کنندگان پر اثر ڈال رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہیٹنگ آئل، گیس آئل اور آر بی او بی پٹرول کی قیمتیں خام تیل سے مختلف سمت میں حرکت کر رہی ہیں۔
یورپی ڈیزل فیوچرز کی پرمیم برینٹ کروڈ کے مقابلے میں 21 ماہ کی بلند ترین سطح 31.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ یورپی پٹرول کے منافع 18 ماہ میں تقریباً 21 ڈالر فی بیرل کے عروج پر پہنچ گئے۔
خام تیل کی زیادتی کے خدشات قیمتوں میں اضافے کی حد کو محدود کر رہے ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں اوپیک پلس نے دسمبر کے لیے پیداوار کے ہدف میں 137,000 بیرل فی دن اضافہ کرنے پر اتفاق کیا، لیکن آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں پیداوار میں اضافے کو روکنے پر بھی اتفاق ہوا۔
کومرز بینک کے تجزیہ کاروں نے نوٹ میں کہا کہ تیل کی مارکیٹ آئندہ سال بھی اضافی سپلائی کا سامنا کرے گی، اس لیے قیمتیں دباؤ میں رہنے کا امکان ہے۔ اضافی سپلائی کی بنیادی وجہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔
اوپیک پلس، جس میں اوپیک ممالک اور روس جیسے اتحادی شامل ہیں، اپریل کے بعد سے 2 ملین بیرل فی دن پیداوار میں اضافہ کر چکے ہیں اور گروپ کے اندر رضاکارانہ پیداوار کمی کو پہلی سہ ماہی کے بعد مزید ریورس کرنے کی ممکنہ صلاحیت آئندہ سال ایک اور 1 ملین بیرل فی دن کا اضافہ کر سکتی ہے۔
مزید برآں تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیائی پانیوں میں جہازوں پر ذخیرہ شدہ تیل کی مقدار حالیہ ہفتوں میں دوگنی ہو گئی ہے، کیونکہ مغربی پابندیوں نے چین اور بھارت کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب وسیع مارکیٹ میں حوصلہ افزائی دیکھنے میں آئی، کیونکہ امریکی تاریخ کی طویل ترین حکومت کی بندش اس ہفتے ختم ہونے کا امکان ہے، جب سینٹ نے وفاقی فنڈنگ بحال کرنے کے لیے ایک سمجھوتہ منظور کیا۔