جرمنی کی افغان شہریوں کو آبادکاری منصوبہ ترک کرنے پر رقم کی پیشکش
- یہ اقدام قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت کی جانب سے اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ امیگریشن کے مسئلے پر قابو پا رہی ہے
جرمنی نے ان افغان شہریوں کو نقد رقم کی پیشکش کی ہے جو پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر وہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں داخلے کی کوششیں ترک کر دیں، یہ ان افراد کے لیے تھا جو جرمنی کے دوبارہ آبادکاری (ری سیٹلمنٹ) پروگرام کے تحت وہاں جانا چاہتے تھے۔ یہ بات بدھ کے روز جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے بتائی۔
یہ اقدام قدامت پسند چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت کی جانب سے اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ امیگریشن کے مسئلے پر قابو پا رہی ہے، یہ معاملہ اس وقت بہت سے جرمن ووٹرز کے لیے ایک بڑا خدشہ بن چکا ہے، جب کہ دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کئی عوامی رائے شماریوں میں سرفہرست ہے۔
تقریباً 2,000 افغان شہری، جنہیں طالبان حکومت کے زیر اثر خطرے سے دوچار افراد یا جرمن افواج کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے بنائے گئے پروگرام کے تحت جرمنی منتقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی، کئی مہینوں سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برلن نے سابقہ حکومت کے قائم کردہ اس منصوبے کو امیگریشن میں کمی کے لیے عارضی طور پر منجمد کر دیا ہے۔
ڈوبرنڈٹ نے کہا کہ جن افراد کے پاس جرمنی میں داخلے کی باضابطہ منظوری ہے، انہیں سیکیورٹی چیک کے بعد آنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن دیگر افراد کو نہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان افراد کی تعداد کتنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہیہ بات منطقی ہے کہ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ان افراد کے جرمنی میں داخلے کا کوئی امکان نہیں، تو ہمیں انہیں کوئی دوسرا راستہ دکھانا چاہیے اور یہ ایک مالی پیشکش کے ساتھ منسلک ہے، تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر افغانستان یا کسی تیسرے ملک واپس جانے پر آمادہ ہوں۔
ڈوبرنڈٹ کے مطابقیہ پیشکشیں ان افراد کو گزشتہ چند دنوں میں دی گئی ہیں۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ رقم کتنی ہے اور کتنے افراد کو یہ پیشکش کی گئی ہے۔
تاہم جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ ادائیگیاں کئی ہزار یورو تک ہو سکتی ہیں، جن میں پہلی قسط پاکستان میں ادا کی جائے گی اور باقی رقم افغانستان یا کسی تیسرے ملک پہنچنے پر فراہم کی جائے گی۔